تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 590
چاہتے ہیں تو پھر چوہدری سرمد ظفراللہ خان صاحب کے ہاں مفتی صاحب آپ کا بندوبست کر دیں گے۔بعد میں معلوم کہا کہ انہوں نے مہمان خانے کی رہائش کو ترجیح دی اور وہیں قیام کیا ، لیفٹینٹ صاحب نے مجھے پروگرام دیدیا اور وہ پروگرام میں نے مفتی صاحب کی خدمت میں ارسال کر دیا۔جس میں مفتی صاحب سے درخواست کی گئی تھی کہ وقت مقرر پر کسی آدمی کو ریو سے سٹیشن پر بھیج دیں۔لیفٹینٹ صاحب کے پروگرام کے مطابق انہیں ادیان صبح کی گاڑی پینا انا اگر کسی خواہی کی بناء پر پر گام کے خلاف درہ بارہ گھنٹے قبل شام کی گاڑی سے قادیان پہنچ گئے۔اور اسٹیشن پر کسی لڑکے سے انہوں نے مفتی صاصب کے مکان کا پتہ دریافت کیا۔اس سعادتمند لڑکے نے لیفٹینٹ صاحب کو اپنے ہمراہ لیا اور مفت محمد صادق صاب کے مکان پر پہنچا دیا۔" بشیرا چڑھا کے خود نوشت حالت یا ورود سامنے انگریز میں ان قبول امریت کے تقرحات لکھے ہیں۔جن کا ترجمہ درج ذیل کیا جاتا ہے :۔جن حالات میں مجھ کو احدیت یعنی حقیقی اسلام کو مجھنے کی توفیق کی وہ غیر معمولی تھے۔ہوا یوں کہ میں جب 9 میں ہند بھا کی سرحد پہ ۱۴ آرمی میں متعین تھا۔مجھ کو فوج کی طرف سے دو ہفتے کی چھٹی کا حق دیا گیا کہ کہیں بجا کر آرام کر سکوں۔لیکن ہندوستان میں میری کہیں واقفیت نہ تھی کہ وہاں تھا کہ وقت گزار سکتا۔اندریں حالات میری یونٹ کے ایک حوالدار کلرک نے محمد کو تحریصی دلائی کہ یں یہ چھٹیاں قادیان جھا کہ ایک شریف النفس انسان مفتی رمحمد صادق کے ساتھ گزاروں۔برما کی سرحد سے قادیان کا فاصلہ اس قدر نہ یادہ تھا کہ اتنے لمبے سفر کے خیال سے میں تذبذب میں پڑ گیا۔لیکن اسکی چہرہ پر سخت ناخوشگواری کے آثار دیکھو کہ آخر کار مجھ کو اس کی بات مانا ہی پڑی۔منی پورہ کے جنگی محاذ کی پہاڑیوں سے پنجاب کے دیسیع و عریض میدانوں تک کا سفر آٹھ دن میں ختم کہا۔قادیان کے ریو سے اسٹیشن پر گاڑی سے اتر کر اطمینان کا سانس لیا اور ایک تانگے والے سے کہا کہ مجد کو مفتی صادق صاحب کے گھر لے چلو۔ان کے گھر پہنچ کر میں ایک سفید ریش بزرگ سے متعارف ہوا۔اور میرے خیال میں ہم دونوں ہی پر ایک دوسرے کو دیکھ کر ایک خاص محویت طاری ہو گئی۔قادیان کی ریاست نے مجھ پر ایک گہرا اثر ڈار کیونکر اسلام کو اس روشنی میں دیکھنے کا موقع ملا جو اسے پیشتر کہیں میسر نہ آئی تھی۔اس نیک اثر سے جو اس جگہ نے اور وہاں کے لوگوں نے جن سے مجھ کو ملنے کا موقع ملا میرے دل میں ایک خاص رشتہ الفت پیدا کر دیا۔اس وقت مجھ کو نہ اسلام کی دینیات سے پوری طرح آگاہی