تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 588
۵۷۳ سلسلہ میں جو خرچ ہو گا ہ میں آپ کی خدمت میں پیش کر دونگا۔تقریبا ایک ڈیڑھہ ہفتہ کے بعد لیفٹیننٹ صاحب کو مفتی صاحب کی طرف سے ایک خط اور ایک کتابوں کا پاریسن موصول ہوا میں کا انہوں نے مجھ سے تذکرہ کیا اور اسکے بعد انہوں نے اسلامی اصول کی فلاسفی کا مطالعہ شروع کر دیا۔ایک دن لیفٹینٹ صاحب کھڑے ہوئے اسلامی اصول کی فلاسفی پڑھ رہے تھے میں ادھر سے گزرا۔انہوں نے مجھ سے باتیں شروع کر دیں کہ اسلام کی تعلیم تو اچھی ہے مگر ایک بری بات یہ ہے کہ اسلام عیسائیت پر حملے بہت کرتا ہے۔جو ابا میں نے انہیں بتایا کہ اب آپ کا فرض یہ ہے کہ آپ اس بات کی تحقیق کریں۔کہ اسلام کے یہ خلیے صحیح ہیں یا غلط۔اتنے میں ایک اور لیفٹینٹ صاحب جن کا نام محد فضار علوی ہے دیہ صاحب پاکستان آرمی میں بسیجر کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے ہیں ، ادھر آنکلے۔اگر چرڈ صاحب نے اُن سے کچھ گفتگو شروع کر دی اور ان سے بھی یہی مذکورہ بالا سوال دھرایا۔انہوں نے جواب دیا کہ یہ باتیں آپ عبدالرحمن سے ہی پوچھیں۔یہی آپ کو بتا ئیگا۔میں نے کہا کہ اگر کوئی شخص چور ہو تو اسے چور کہنا حمہ کرنا نہیں ہے بلکہ امرواقعہ کا اظہار ہے۔ماں کسی ایسے شخص کو چور کہنا جو چور نہ ہو یہ الزام اور حملہ ہے اور ایسا نہیں کرنا چاہیئے۔اب آپ اس کتاب کو اس نظریہ کے ساتھ مطالعہ کریں کہ کیا اسلام عیسائیت کے بارے میں جو کچھ کہتا ہے وہ حقیقت ہے یا نہیں اگر حقیقت ہے تو اسکو حملہ نہیں کہ سکتے اور اگر حقیقت نہیں تو واقعی حملہ ہے اور اسلام کو ایسا نہیں کرنا چاہیئے۔ایک دن لیفٹینٹ آرچرڈ نے مجھ سے کہا کہ کیا تم مجھےارد د پڑھا دو گے۔میں نے جواب دیا کہ دفتر کے وقت ت میں کچھ نہیں کر سکتا۔ہاں اگرآپ صبح پی ٹی ( فزیکل ٹرینینگ) کے وقت چاہیں تو میں آپکی خدمت کر سکتا ہوں۔چنانچہ میرے سیکشن آفیسر ( OFFICER COMMANDING) کیپٹن راجندر سنگھ نے مجھے اجازت دیدی اور میں نے آرچر ڈ صاحب کو اردو پڑھانی شروع کر دی۔ایک دن لیفٹینٹ صاحب نے مجھ سے کہا کہ تمہاری جماعت دنیا کی فلاح و بہبود کیلئے بہت کچھ کر رہی ہے مبتلا ہیں کہ ان قیمتی لٹر پر مفت تقسیم کرتی ہے۔کیا میں اس کا معمر بن سکتا ہوں ؟ میں نے کہا شوق ہے۔کہنے لگے مگر میں سلمان نہیں بنوں گا۔میں نے کہا کہ جب آپ اس جماعت میں داخل ہوں گے تو پہلی چیز میں کیا آپ کو اقرار کرنا ہو گا وہ ہے : اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وحده لا شريكَ لَهُ وَاشْهَدُ أنَّ محمدا عبده ورسوله۔اور جو شخص اس کلام کو پڑھ کر اقرار کرتا عَبْدُهُ ہے وہ مسلمان ہوتا ہے کہنے لگے تو پھر میں اس جماعت میں داخل نہیں ہوتا۔اگر میں اس جماعت کی کچھ پڑھنے سے