تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 585
صورت حالات سے بخوبی آگاہ ہیں اور اس خطرہ کو مٹانے کا عزم کئے ہوئے ہیں “ لے سلسلہ احمدیہ کے مخلص اور فدائی حضرت امیرالمومنین علیه این استان الصلع الوجود ارمان ارماری یہ مہش کو قادیان سے سند ھ تشریف لے گئے اور سار ماہ بزرگوں کی سندھ میں یادگاریں۔شہادت / اپریل کش کو قادیان میں رونق افروز ہوئے کہ یہ کا و اس سفر کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ حضور نے ۲۲ رامان کو حمد آباد اسٹیٹ کی بعض اور گوٹھوں دیعنی گاؤں، کے نام نبردگان سلسلہ کے ناموں پر تجویز فرمائے ہو یہ تھے۔ورنگر، کریم نگر ، لطیف نگر ، روشن نگر ، بیریان نگر الحق نگر۔چنانچہ تصور نے اسی روز خطبہ جمعہ میں فرمایا :- سلمہ کے لئے قربانی کر نیوالوں کی یادگار کو تازہ رکھنے کے لئے میں نے سلسلہ کی جائیدا کو مختلف گوئی کے۔کے نام، بزرگوں کے ناموں پر رکھنا تجویز کیا ہے۔رسول کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم چونکہ ہمیں سب سے زیادہ عزیز ہیں اس لئے آپ کے نام پر اس گاؤں کا نام جو تحریک کی جائیداد کا مرکز سے محمد آیا درکھا گیا ہے۔صدر انجمن احدید کی جائیداد کے مرکز کا نام احمد آباد حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے نام پر رکھا گیا ہے۔محمد آباد آٹھ ہزار ایکڑ کا رقبہ ہے۔اس لحاظ سے میرا خیال ہے اس میں کچھ سات گار کی اور آباد ہو سکتے ہیں۔اس وقت جو آبادیاں یہاں قائم ہو چکی ہیں ان میں سے ایک کا نام پہلے سے حضرت خلیفہ اول کے نام پر نور نگر ہے۔اب شمالی حلقہ کی ایک آبادی جو سٹیشن کے پاس ہے اس کا نام کریم نگر رکھا گیا ہے اور مغربی طرف کی زد آبادیوں میں سے ایک کا نام لطیف نگر صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب کی یاد میں اور ایک کا نام روشن نگر حافظ روشن علی صاحب کی یادگار میں رکھا گیا ہے۔پہلے میں نے ان ناموں کے ساتھ آباد لگا یا تھا مگر پھر اسے نگر میں تبدیل کر دیا تاکہ محمد ابا نام کے لحاظ سے بھی اپنے علم میں مستانہ ہو جس طرح رسول کریم صلی الہ علیہ والد کا سورج ہیں اور یہ لوگ میں ستارے ہیں اسی طرح محمد آباد بطور سورج کے ہو اور اسکے اردگرد باقی گاؤں بطور ستاروں کی ہوں میرا ارادہ بعض اور نام بھی رکھنے کا ہے مثلاً بربان نظر مولوی برهان الدین صاحب کے نام پر اور اسحق نگاه میر مجد الحق صاحب مرحوم کے نام پر۔اسی طرح ایک دن گاؤں احمد آباد کی زمین میں بھی آباد ہوسکتے ہیں ان کے ساتھ بھی نکھر لگایا جائیگا۔اور جو گاؤں احمد آباد میں آباد ہوں گے ان کے نام بھی سلسلہ کے لئے بوادر اصل اسم صلح جو دی د مشر است ه الفضل در امان ۳۲۵ امیش مد و به رشادت ۳۲۵ اش صدا به