تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 584 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 584

عرب دریا سے تمام مطالبہ کرتے ہیں۔اول کی پہلی عالمگیر جنگ کے شروع میں برطانیہ نے جن عرب ممالک سے آزادی کا مطالبہ کیا تھا فلسطینی بھی اُن میں شامل تھا۔دوئم : حکومت برطانیہ نے اپنے پہلے وعدے کو اس اعلان سے مضبوط کیا کہ جنگ کے بعد عرب ممالک میں وہاں کے لوگوں کے مشورہ کے بغیر کوئی حکومت قائم نہیں کی جائے گی۔- سوئم : بالفور ان کا یہ موم نہیں تھا جو یہودی اخذ کرتے ہیںکہ فلسطین میں ایک یہودی ریاست قائم کی جائیگی۔چہارم :۔عربوں کا مطالبہ ہے کہ شہداء کا قرطاس ابیض ایک قسم کا آخری فیصلہ تھا اور یہودی اس کی مخالفت میں حق بجانب نہیں ہیں۔سرمحمد ظفر مد خان نے شریف مکہ اور مصر میں بھانی ہائی کمشنر کے مابین عرب ممالک کی آزادی کے بارے میں خواد کتابت کا تفصیل ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شریف کر نے مطالبہ کیا تھا کہ بنا کے اختتام پر عرب ممالک کو آزاد کیا جائے اور کہا تھا کہ عربی کا یہ مطلبہ ان کی زندگی کا جزو اعظم بن چکا ہے۔اور اس میں کس قسم کا ردو بدل نہیں ہو سکتا۔حکومت برطانیہ نے ہائی کمشنر کی معرفت اس مطالبہ کو پیدا کرنے کا یقین دلایا تھا۔آج عرب اسی خط و کتابت کی بنار پر فلسطین کی آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں اور دعوی کرتے ہیں کہ فلسطین بھی ان ممالک میں شامل تھا جن کے بارے میں شریف مکہ نے حکومت برطانیہ سے ضمانت مانگی تھی۔فلسطین میں یہودیوں کے قیام کے متعلق دیگر عرب ممالک کے رد عمل کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ رب یہودیوں کے نام سے متنفر ہیں۔ائی کا خیال ہے کہ اگر فلسطین میں یہودیوں کی ریاست قائم ہوگئی تو پھر وہ ہمسایہ عرب مالک سے بھی علاقوں کا مطالبہ کریں گے اور نئی مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔اگر چہ یہودی اس امر کا یقین دلائیں اسنے کہ وہ عربوں کے مفاد کی حفاظت کریں گے لیکن باہمی مفاد کا جذبہ اپ اس بھر تک پہنچ چکا ہے کہ کسی مفاہمت کی کوئی امید نہیں ہے۔یہودی اس بات پر نکلے ہوئے ہیں کہ اگر تمکن ہو سکے تو طاقت کے استعمال سے یہودی ریاست قائم کریں گے۔سرمحمد ظفراله خان صاحب نے کہا کہ فلسطین کی سترہ لاکھ پچاس ہزار کی کل آبادی میں چھ لاکھ اور پچاس ہزا اسہ یہودی ہیں۔اور وہ ملک کی اقتصادی زندگی پر چھائے ہوئے ہیں۔اور اگر یہودیوں کا فلسطین میں داخلہ بند بھی کر دیا گیا تو وہ سیاسی اور اقتصادی طور پر عربوں کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ بنا رہے ہیں۔عر یہ کہ اس