تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 556
سے خود سکھتے تھے۔جناب ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے نے اصحاب احد جلد اول میں حضور کے متعدد اہم مکتوبات کا چہرہ بہ دیا ہے۔آپ کو تبلیغ سالار کا بے پناہ جوش اور شوق تھا۔آپ نے 11 سے یاد گیر میں سالانہ جلسوں کی بنیاد رکھی۔پہلا جلسہ آپ نے اپنے کارخانہ چاند مارک بیٹری واقعہ محلہ دستگیر پیٹھ میں کیا۔جلسوں کا یہ سلسلہ اور با تک نہایت کامیابی سے جاری ہے۔ان جلسوں کی ایک ہماری خصوصیت یہ ہے کہ اس میں بعض اخص صحا بہ بھی شرکت ذرا پچکے ہیں جن میں کبھی کے نام یہ ہیں:۔حضرت مولانا سید عمر سر دور شاہ صاحب ، حضرت حافظ روشن علی صاحب ، حضرت ڈاکٹر مفتی به سادة صاحب - حضرت شیخ یعقوب کلام صاحب نورانی - حضرت شیخ محمد یوسف صاحب مدیر نور - حضرت مولانا عبد الرنيم اب نیر حضرت مولوی عبد افرقیم مصاحب کشتی و غیره حضرت سیٹھ صاحب ان سالانہ مجلسوں کو اپنے لئے اور اپنے خاندان۔کے لئے یوم عید سمجھتے تھے۔چنانچہ ارشاد فرماتے۔مومن کی عید ہی ہے کہ وہ خدا کے پیغام کو پہنچائے۔یہی اس کی خوشی کا دن ہے۔آپ نے سلسلہ کی اشاعت اور عوام میں مذہبی اور ملی مذاق پیدا کر نے کے لئے یاد گیر کئے بازار میں ایک شاندار احدیہ ابر بہری بھی قائم کی۔احمدیہ لیکچر بان اور احمدیہ مہمان خانہ تعمیر کرایا۔بادگیر در چنته گاته میں مساجد بنوائیں تبلیغ سلسلہ کے لئے آپ نے ایک انتظام یہ بھی فرما یا کہ 19 مقامات پر اپنے کارخانہ کی شاخیں قائم کیں اور کا انسانوں کے انتظام اہتمام کے لئے سب ملزم احمدی مقدر کے تاکہ وہ اپنے تعلقہ اثر میں اس کی تبلیغ کریں۔چنانچہ اسکی نتیجہ میں بعض دیگر نئی جماعتیں بھی قائم ہوئیں جن میں چنتہ گفتہ ضلع جو نگر کی کی جماعت بھی ہے۔جو بجائے خود ایک مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔اور شکر اضلع محبوب نگر که نول ، مصوبه ما بر اس کی تمام جماعتیں آپکی تبلیغ سے قائم ہوئیں۔سیٹھ مین مراتب نیت کرنا آپ برادر نسبتی با اور حضرت سیٹھ محمد عفونت صاحب ( آپ کے چھر سے بھائی ، آپ ہی کے اثر سے شاہی حدیت ہوئے۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خلفائے احمدین )۔ارسال کی تالیفات نوری یا تقسیم کردیتے تھے اور مرکزی اخبارات کی امانت کے لئے ہمیشہ آمادہ رہتے۔دینی کتب کے مصنفین کی حوصلہ افزائی نیا تے سینکڑوں قرآن شریف اور دوسری دینی کتابیں غریبوںاور ناداروں میں صفت تقسیم کیں۔ضرت سیٹھ صاحب عمہ بپھر مسلہ احمدیہ کی ہر تحریک میں نہایت کشادہ دلی اور انشراح صدر کے ساتھ نمایاں اور سرگرم حصہ لیتے رہے۔مئی بار میں اپنی جائیداد کے دسویں حصہ کی وصیت فرمائی۔نیز مجاہدین تحریک تجدید میں بھی شامل ہوئے اور اس مالی جہاد میں قریبا چار ہزار ایک سو چھیاسی روپے پیش کئے۔اس کے علاوہ اپنے