تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 557
مند بعد ذیل مرکزی تقریبات کے لئے بھی چندہ دیا۔مسجد نور، دار الصفا - تحریک تراجم قرآن و پا نیز درد پیدا کرد نور ہسپتال درپانچ سو روپیہ) مینارہ اسیح ( ایک سوروپیہ) - مزیلہ بہ گی آپ نے مقامی طور پر سلسلہ احمدیہ اور مفاد عامہ کے لئے بے دریغ اخراجات کئے۔جن سب کی مجموعی رقم حضرت عرفانی صداح کے تخمینہ کے مطابق سو لا کھر تہ بیس ہزار تک جا پہنچتی ہے۔حضرت سیٹھ صاحب کو ایک بہانہ تجارت میں لاکھوں روپے کا شدید نقصان ہوا۔مگر آپ نے اس مالی ابتلاء میں بے نظیر صبر و استقلال کا نمونہ دکھایا۔اللہتعالیٰ نے آپ کو بشارت دی کہ آپ فوت نہیں ہونگے جب تک آپ کی تجارت پہلے جیسی نہیں ہو جائے گی۔چنانچہ آپ نے اپنی وفات سے پہلے یہ آسمانی مہارت پوری ہوتی دیکھ لیں۔حضرت سیٹھ ص حب ورماه اما در اکتو به لام پیش کو اپنی زوجہ محترمہ رسول بی بی صاحبہ اور اپنے داماد مولوی ۴۵ محمد اسمعیل صاحب فاضل وکیل کے ہمراہ سفر حج پر تشریف لے گئے۔مرکز اسلام مکہ معظمہ دوام اللہ برکا تہا، میں آپکا قیام ریاد حسین بی میں تھا۔ایک مہینہ سے زائد مکہ مکرمہ میں رہے اور حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے۔قیام مکہ کے دوران اپنے داماد مولوی محمد میں صاحب فاضل وکیل سے فرمایا ” اس مقام کے آدمی تو آدمی ہیں۔جانور بھی پیارے لگتے ہیں۔کیونکہ یہ ہمارے رسول کی تخت گاہ میں بسنے والے جانور ہیں اگر ہو سکے تو ہمیں یہاں کے چھوٹے بڑے جانور ایک ایک ہندوستان لے جانے چاہئیں۔ابھی آپ مکہ معظمہ میں ہی فروکش تھے کہ بخار میں مبتلا ہو گئے۔اور نقاہت بھی بہت ہو گئی۔اسی حالت میں مدینہ منورہ کا سفرکیا۔اور مسجد نبوی کے قریب رتباط افضل الدولہ میں قیم ہوئے۔یہاں پہنچہ آپ کی ہماری تشویشناک صورت اختیار کرگئی۔بیماری کے دوران فرمایا کہ میں حضرت ر سول الله صل اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیر یا جمعہ کو جاؤں گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا آپ مدینہ النبی میں پہنچنے کے تیرھویں دن مورخه ۱۲ محرم شده و مطابق ، در دسمبر شاهداء بروز پیر انتقال فرما گئے۔اور جنت البقیع ۱۹۴۵ء دارویم میں حضرات اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہ کے پیچھے اور سید نا حضرت عثمان بن کے مزار مبارک کے قریب دفن کئے گئے۔اس طرح سید نا حضرت مسیح موعود کا ایک جلیل القدر صحابی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں میں پہنچ گیا۔حضرت سیٹھ شیخ حسن صاحب بر صغیر کے پہلے صحابی ہیں جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جسمانی قریب کا یہ اعزاز نصیب ہوا۔ذالك فضل الله يوتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم - حضرت سیٹھ صاحب مستجاب الدعوات ، شب بیدار ۲ در صاحب کشف ورد یا و بزرگ تھے ، سادگی اور ہے۔حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ عنہ نے اپنے منظوم سفر نامہ مطبوعہ اور میں یا دگیر پہنچنے اور سیٹھ صاحب کے چندہ دینے کا خاص طور پر ذکر فرمایا ہے :