تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 550
۵۳۵ حافظ محم الدین صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پرانے صحابی تھے اور مخلص احمدی تھے۔آپ کے داخل احدیت ہونے کی موجب پنجابی اشعار کی ایک کتاب " بیچے بیان تھی جس میں حضرت علی علیہ السلام کی وفات کا ذکر اتنے پر اثر رنگ میں کیا گیا تھا کہ آپ نے فوراً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر لی۔آپ کے ذریعہ چک چہور میں ایک مخلص جماعت قائم ہوگئی آپ کے علم و تقویٰ کا غیر اصدیوں پر بھی بہت اثر تھا اور وہ آپ کا در درجه احترام کرتے تھے۔حضرت حافظ صاحت بنے ہو اپریل نشہ کو وصیت کر دی تھی۔آپ کا وصیت نمبر ۸۴ تھا۔جو نہی حضرت خلیفہ اولی رضی اللہ عنہ کی وفات کی خیر چیک چہور میں پہنچی۔آپ نے محض اپنی فراست و بصیرت کی بناء پر اپنے خدا کے حضور سید تا محمود کی بیعت کا اقرار کیا۔اور اس وقت تک چین نہ آیا جب تک دوسری اطلاع نہیں مل گئی کہ جماعت نے حضور کو ہی خلیفہ چنا ہے۔حضرت حافظ صاحب شہادت را پریل پر ہی میں عارضہ خاری میں مبتلا ہوئے۔اور ، اراحسان جون میش کو سرسام بھی ہو گیا اور چند گھنٹوں میں خالق حقیقی سے جاملے اگلے روزہ آپ کے فرزند قریشی محمود احمد صاحب شام کی گاڑی سے نعش لاہور سے قادیانی لائے اور دوسرے دن صبح بہشتی مقبرہ میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔ہے - ابو المنظور حضرت مولوی حاجی محمد دلپذیر صاحب بھیروی :- بیعت : قریبا شنگله وفات ۱۸ ر احسان جهان سایش ڈاکٹر منظور احمد صاحب بھیروی اپنے والد ماجد کی سوانح پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔ور آپ کا نام والدین نے محمدامین رکھا تھا۔بچپن میں جب آپ کر لیا پڑھا کرتے اور آپنے یہ شعر پڑھا ہے زبان تاکوو دکر وہاں جائے گیر : ثنائے محمد بود ولپ پیر تو اس وقت آپ نے ارادہ کیا کہ اگر مجھے بھی شعر کہنا آجائے تو میں اپنا تخلص دلپذیر رکھونگا چنانچہ ایسا ہی ہوا۔آپ نے شعر و شاعری میں وہ کہاں حاصل کیا کہ پنجابی زبان میں آپ سے پہلے شعراء حالی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ لاہور۔آپ ایک عرصہ تک قائد مجلس لاہور کے کامیاب فرائض انجام دیتے رہے ہیں " ه الفضل و رو فار جولائی یہ پیش صفحه ۶ : ۶۱۹۴۵ کے سنہ بیعت کی تعیین حضرت مولوی صاحد کے مندرجہ ذیل تحریری پیغام سے کی گئی ہے :۔قادیان السلام علیکم درحمت اللہ و برکاتہ۔میں الہ تعالی کے فضل سے عرصہ چالیس سال سے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوا ہوں اور حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے تمام دعا دی کی تصدیق کرتا ہوں اور آپ کو سچا مانتا ہوں آپ لوگوں کو بھی چاہیئے کہ مان لیں یہ دقت غنیمت ہے۔نقطر دستخط محمد دلپذیر بھیروی مصنف کتاب گلزار یوسف و غیره - د مطبوعه الفضل ۱۹ فروری ۹۳ منا له الفضل در تبلیغ اش مث : ۹۴۶