تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 546 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 546

کے آنے کی خوشخبری دیتی ہے جیسکی سامنے صبح کاذب کا وجود نہیں ٹھہر سکتا۔اس بنیادی نقطہ کی وضاحت کے بعد آپ نے کارل مارکس کے معاشی نظر یہ مساوات کے مندر جہ ذیل سات اعوان کا تذکرہ فرمایا : - پیداوار اور ذرائع پیداوار پر قبضہ - ۲- طاقت کے مطابق کام۔۳۔ضرورت کے مطابق آمد - م - نقع ممنوع اور سود جائز۔دہ اور نہ نا جائز۔(1) نظام زر کی تباہی - شخصی ملکیت کا خاتمہ۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے ان میں سے ایک ایک اصول کو لیا اور پھر فاقعات سے ثابت کیا کہ یہ سب اصول ابری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔مارکس نظریہ اور کسے مبادیات کا دافعاتی اور عقلی جائزہ لینے کے بعد آپ نے اسلامی اقتصادیات کے اہم اصولوں پر مفصل روشنی ڈالی اور اس ضمن میں سب سے پہلے بتایا کہ اسلام میں مساوات کی صحیح تعریف یہ ہے کہ ضروریات نہ ندگی کے حصول میں سب مساوی ہوئی اور ان کے جسمانی اور دمافی قومی کو کمال تک پہنچانے کے سامان مہیا ہوں انسان بعد آپ نے نہایت شرح وبسط سے غلامی کا انسداد ، نظام در ائت کا قیام اور سود ، احتکار قیمتیں گرانے یاکم میت ر مال خریدنے کی مصالحت وغیرہ متعدد اسلامی اصولوں پر روشنی ڈالی اور اس نقطہ پر خاص طور پر زور دیا کہ اسامی اقتصادیا میں ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ایک بین الاقوامی تمدن کی بنیاد رکھتی ہے۔دنیا میں آج تک کوئی اقتصادی تحریک بھاری نہیں ہوئی جسے صحیح معنوں میں بین الاقوامی کہا جاسکتا ہو۔سرمایہ داری اور امپر ملزم کے ملکی ہونے میں تو کوئی شک نہیں ہو سکتا۔اشتراکیت جسے لوگ بین الاقوامی تحریک مجھتے ہیں اور جس کا کبھی خود بھی یہی دعوی تھا بین الاقوامی تحریک نہیں کبھی جاسکتی۔اسی ہے کہ آج اشتراکیت۔روسی اشتراکیت کا نام ہے اور روسی اشتراکیت کے مقاصد میں سے یہ ایک مقصد نہیں کہ دنیا میں اشتراکیت کو قائم کیا جائے۔مرح الہ میں جب مسٹر آکر۔ہاورڈ نے سٹالن سے یہ سوال کیا۔کہ کیا سویٹ یونین نے عالمگیر اشتراکی انقلاب کے اراد سے اور اس کا پروگرام اب چھوڑ دیا ہے ؟ تو سٹالن نے جواب دیا کہ دنیا میں اس قسم کا انقلاب پیدا کرنے کا ہمارا کبھی بھی ارادہ نہ تھا سویٹ یونین ستاره افتادم سلام اس کے بدن کی وجہ ایک مذہبی تحریک ہونے کے بلک ملک نسل نسل اور قوم قوم میں کوئی امتیاز نہیں کہتا۔اسلام عالمگیر تبلیغ اور اشاعت کی بنیا دوں پر قائم ہے اور اسلام کا یہ دعوی ہے کہ بطرح وہ اپنے پہلے دور میں دنیا کے بہت سے ممالک میں پھیل گیا اور ایک شاندار بین الاقوامی برادری سنی قائم کی اپنے دور ثانی میں کی وہ تمام دنیا پر چھا جائیگا۔حضرت صاحبزادہ صاحب کی یہ اہم تقریر مندرجہ ذیل پر شوکت الفاظ پر ختم ہوئی :