تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 38
بعد پوری ہو جاتی ہے، کوئی سال کے بعد پوری ہو جاتی ہے ، کوئی دو سال کے بعد پوری ہو جاتی ہے اور اس طرح ثابت ہو جاتا ہے کہ مجھ پر بو الہام نازل ہوتا ہے تعدا کی طرف سے ہی ہوتا ہے۔پھر میں نے انہیں مثال دی اور کہا آپ مجھے بتائیں۔کیا آپ کا وہ کرہ جسے آپ خدا قرار دیتے ہیں کسی کو یہ بتا سکتا ہے کہ امریکہ کی طرف سے انگلستان کی مدد کے لئے اٹھائیں سو ہوائی جہانہ بھیجوایا جائے گا۔وہ کہنے لگے۔اس کرہ سے تو کوئی ایسی بات کسی کو نہیں بتائی جا سکتی میں نے کہا تو پھر اتنا پڑے گا کہ اس کمرے اور اسی طرح اور گروں کا خدا کوئی اور ہے یہ خود اپنی ذات میں خدا نہیں ہیں کیونکہ آپ تسلیم کرتے ہیں کہ اس مرکز کے ذریعہ کسی کو کوئی خبر قبل از وقت نہیں پہنچ سکتی۔لیکن میں اپنے تجربہ سے بجانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا کلام انبان پر نازل ہوتا ہے جو کئی قسم کی غیب کی خبروں پرمشتمل ہوتا ہے۔پس آپ بیشک اس مرکز کو ہی خدا مان لیں لیکن ہم تو ایک علیم و خبیر ہستی کو خدا کہتے ہیں۔اس کے اندر قدرت بھی ہوتی ہے۔اس کے اندر جیلال بھی ہوتا ہے، اس کے اندر جمال بھی ہوتا ہے۔اس کے اندلہ علم بھی ہوتا ہے، اس کے اندر حکمت بھی ہوتی ہے۔اس کے اندر بسط کی صفت بھی ہوتی ہے۔اس کے اندر بھی ہونے کی صفت بھی ہوتی ہے، اس کے اندر حمیت ہونے کی صفت بھی ہوتی ہے۔اس کے اندر علیم ہونے کی صفت بھی ہوتی ہے، اس کے اندر رہین ہونے کی صفت بھی ہوتی ہے۔اس کے انڈر واسع ہونے کی صفت بھی ہوتی ہے۔غرض بیسیوں قسم کی صفات ہیں جو اس کے اندر پائی جاتی ہیں۔اسی طرح اس کا نور ہونا ، اس کا وہاب ہونا ، اس کا شکور ہوتا ، اس کا غفور ہونا اس کا رحیم ہونا، اس کا ورود ہونا ، اس کا کریم ہونا ، اس کا استاد ہوتا اور اسی طرح اور کئی صفات کا اس کے اندر پایا جانا ہم تسلیم کرتے ہیں۔کیا یہ صفات اس مرکز میں بھی پائی جاتی نہیں جس کو آپ خدا کہتے ہیں ؟ جب ایک طرف اس کے اندر یہ صفات نہیں پائی جاتیں اور دوسری طرف ہم پر ایک ایسی ہستی کی طرف سے الہام نازل ہوتا ہے جس میں یہ تمام صفات پائی جاتی ہیں جو اپنی ان صفات کو اپنے کلام کے ذریعہ دنیا پر ظاہر کرتا ہے اور با وجود اس کے که ساری دنیا مخالفت کرتی ہے پھر بھی اس کا کلام پورا ہو جاتا ہے اور جو کچھ اس نے کہا ہوتا ہے وہی کچھ دنیا کو دیکھنا پڑتا ہے تو اس ذاتی مشاہدہ کے بعد ہم آپ کی تھیوری کو کس طرح