تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 521
A۔A بہت بڑے ہال میں لیکچر دے رہے ہیں۔بمبئی میں بڑے سے بڑا ہال دس ہزانہ آدمیوں کے بیٹھنے کا ہے مگر وہ اتنا بڑا اعمال ہے کہ ایک لاکھ آدمی اس میں آسکتے ہیں۔مجھے اس کے دروازہ پر کھڑا کیا گیا۔اور کہا گیا کہ جولوگ آئیں تم انہیں ریسیو ( RECIEVE ) کورد اندر انذار بھیجتے جاؤ۔خدا تعالیٰ نے قریبا پچاس سال قبل یہ خوشخبری مجھے سنائی اسے پورا ہوتا آج اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔اس کی شہادت دیتا ہوں " اس وقت تک حضور کے آگے میز پر وعدوں کی تحریریں اور نقدر قوم بہت سی جمع ہو چکی تھیں۔جن کے متعلق حضرت امیر المومنین نے فرمایا :- یہ رقعے اور روپے دفتر پرائیویٹ سیکر ٹری والے اٹھا لیں۔میں اس بارہ میں بری ہوتا ہوں۔خدا تعالے کے حضور دفتر دالے جواب دہ ہوں گے" یہ فرمانے پر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حضور علیہ ختم ہی کرنے والے ہیں اور حضور نے رقوم پیش کرنے والوں کے نام سُنانے کا ارشاد فرمایا اور اپنی طرف سے دس ہزار روپیہ اس فنڈ میں دینے کا ارشاد فرمایا۔ابھی چند ہی نام سُنائے گئے تھے کہ اس کثرت سے احباب نے اپنے نام پیش کرنے شروع کر دیئے کہ حضور نے فرمایا۔احباب باری باری ہوئیں تا اُن کے نام لکھے جاسکیں۔اور ساتھ ہی حضور نے گئی اور اصحاب کو نام رکھنے پر مقرر کر دیا۔کچھ دیر بعد حضور نے فرمایا۔کہ۔یں اپنی طرف سے ، اپنے خاندان کی طرف سے ، نیز چو دھری ظفر اللہ خانصاحب اور ان کے دوستوں اور سیٹھ عبد اللہ بھائی صاحب کے نماندان اور جماعت احمدیہ کی طرف سے اس بات کا اعلان کر تا ہوں کہ بیرونی جماعتوں کو اس فنڈ میں شریک ہونے کا موقعہ دینے کے بعد دول لکھ میں جو کی رہے گی وہ ہم پوری کر دیں گے کے اسی اثناء میں ساری فہرست تیارہ ہونے کے بعد بجوب رقوم کی میزان کی گئی تو حضور نے اعلان فرمایا کہ: اس جلسہ میں شریک ہونے والوں نے اپنی طرف سے یا اپنے غیر حاضر د دوستوں اور رشتہ داروں کی طرف سے جو چند سے پیش کئے ہیں ان کی فہرست تیار کر لی گئی ہے۔ممکن ہے