تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 518
۵۰۵ جماعت کو بڑھا رہا اور سلمان پیدا کرتا جارہا ہے۔کہ اُس وقت جو بات بہت بڑی معلوم ہوتی تھی۔آج بہت ہی معمولی اور حقیر سی نظر آتی ہے۔اور آج جو چیز بہت بڑی معلوم ہوتی ہے وہ کھل حقیر ہو جاتی ہے۔خدا تعالیٰ کا یہی سلوک ہماری جماعت سے برابر چھلا چھا رہا ہے۔اور اس بات کا خیالی کر کے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرح دل بھر آتا اور آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔کہ کاش جماعت کی یہ ترقی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں ہوتی تا آپ بھی اس دنیا میں اپنے کام کے نوشکن نتائج دیکھ لیتے۔دیہ فرماتے فرماتے حضور پہ در رقت طاری ہوگئی پھر تھوڑی دیر توقف کے بعد فرمایا )۔اس تجویز کا اصل مقصد کا نفرنس منعقد کرنا ہے جس میں ہر مذہب کے نمائندے اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کریں۔سب کمیٹی نے اس کے لئے دو ہزارہ ر ویسے تجویز کئے ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ جو دوست اس کے متعلق کچھ کہنا چا ہیں نام لکھا دیں۔“ ایران بعد حضرت اقدس کی اجازت سے مندرجہ ذیل اصحاب نے اپنی معروضات پیش کیں۔1- شیخ عبد الحمید صاحب آڈیٹر ” تمام لبنات اس تجونیہ کی تائید کرتی ہیں "۔-۲ میاں غلام محمد صاحب اختر " سیدی میں نہایت ادب سے عرض کہتا ہوں۔کہ اس مقصد کے لئے بجٹ میں کوئی رقم نہ رکھی جائے۔بلکہ ہم خدام سے جس قدر رقم کی ضرورت ہے۔انفرادی طور پر لی جائے تا کہ بجٹ کا سوال ہی پیدا نہ ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام نے ایک سو آدمیوں کے جگہ کی خواہش ظاہر فرمائی تھی اسے سو گنا کر کے اُن کے لئے جگہ بنائی جائے۔ہمیں جو کچھ ملا ہے محض حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام کے ذریعہ سے ملا ہے اور وہ آپ ہی کا ہے۔آپ جتنی رقم چاہیں۔ہمہ سے لیں۔ہم اسے انتہائی خوشی اور مسرت کے ساتھ پیش کر یں گے۔-۳- مرزا احمد بیگ صاحب آمنہ پیٹی۔" میں اختر صاحب کی تائید کرتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی یہ مبارک تجویز ہے۔ہماری خوشی کی کوئی حد نہ ہوئی۔اگر ہیں اس کی تو شفیق ہے۔ہم اس کے لئے ہر قربانی