تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 519
۵۰۶ کرنے کے لئے تیار ہیں۔- بشیر الدین صاحب بھاگلپوری خدا تعالیٰ کا بڑا لشکر ہے۔میں نے شانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔اس وقت آپ سے سُنا تھا کہ قادیان مرجع خاص و عام ہوگا۔انشعاب دیکھ لیا ہے کہ عظیم الشان جماعت بن رہی اور بنتی جارہی ہے۔اس لئے بہت زیادہ آدمیوں کے بیٹھنے کے لئے ہال بننا چاہئیے۔کیونکہ ساری دنیا کے مذاہب کے نمائندے آئیں گئے۔ادھر بڑے بڑے لوگ آئیں گے۔ہماری ساری جائیدادیں اس ہال کی تعمیر کے لئے حاضر ہیں۔محمد ابراہیم صاحب نے " آج سے ٹھیک دو ماہ قبل میں نے یہ تجویز کھک بھیجی تھی۔ہمارے سے لئے نہ صرف اسے عملی جامہ پہنانا بہت بڑی سعادت کا باعث ہوگا۔بلکہ حضور کی کتب اور تحر یہ دن سے حضور کی سب تجاویزہ اور خواہشوں کو جمع کر لیا جائے تاکہ وہ جماعت کے سامنے رہیں اور انکو عملی جامہ پہنانے کا خیال رہے۔اور اس وقت دو ہزار یا جتنے روپے کی ضرورت ہو لے لیا جائے" حضرت امیر المومنین المصلح الموعود نے فرمایا کہ : دو ہزار روپیہ تو ایک شخص نے ہی دیدیا ہے اس کا تو اب سوال ہی نہیں۔اس موقعہ پر بعض اصحاب نے خود بخود رقوم پیش کرنی شروع کر دیں۔جس پر حضور نے فرمایا :- دوستوں نے چندہ دینا شروع کر دیا ہے اور اس بات کا انتظارہ نہیں کیا کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں۔مجھ پر جو اس وقت وہ بعد کی حالت طاری ہوئی۔اور میں سجدہ میں گر گیا۔اس کی وجد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے زمانہ کے حالات اور بعد کے حالات کا فرق ہے۔اس وقت دو ہزار روپیہ کا جو سوال ہے وہ تو ایک دوست نے پورا کر دیا ہے۔اور وہ کیا اس بہت زیادہ چندہ ہو سکتا ہے۔مگر دیکھنا یہ ہے کہ اس تجویز کے پیچھے جذیہ کیا کار فرما ہے۔یہی کہ باہر سے کتنے آدمی آسکیں گے۔چونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اب ہیں پچیس ہزارہ ہے۔اس نام کے چار دوست کوٹ کر یہ بخش اسما عیله دیگراست مسجد فضل قادیان اور منگل سے مجلس مشاورت ماشین بطور نمائندہ شامل تھے مگر پورٹ سے یہ وضاحت نہیں ملتی کہ اس کا روائی میں حصہ لینے والے کون تھے ؟ :