تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 517 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 517

۵۰۴ یہ دیکھتے ہی تمام حاضرین اپنی اپنی جگہ پر سجدہ میں گر گئے اور حضور کے اٹھنے پر جب اللہ اکبر کہا گیا تو اٹھے جس کے بعد حضرت امیر المومنین نے فرمایا :- " قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔اکثر لوگ خدا کے نشانوں سے اعراض کرتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔آج سے دس سال پہلے وہ شخص نہیں کی جوتیوں کا غلام ہونا بھی ہم اپنے لئے باعث فخر سمجھتے ہیں اسے اس وقت کی اپنی جماعت کی حالت دیکھتے ہوئے ایک بہت بڑا مقصد اور کام یہ نظر آیا کہ ایک ایسا کرہ بنا یا جائے میں میں سو آدمی بیٹھ سکے۔مگر آج ہم ایک ایسے کمرے میں بیٹھے ہیں جہ اس غرض سے نہیں بنایا گیا تھا۔کہ مختلف مذاہب کے لوگ اس میں تقریریں کریں۔مگر اس میں پانچ سو کے قریب آدمی بیٹھے ہیں۔اور وہ بھی کہ سیلوں پر۔جو زیادہ جگہ گھیرتی ہیں۔گویا اس زمانہ میں جماعت کی طاقت اور دوست کی یہ حالت تھی کہ وادیوں کے بیٹھنے کا کرا بنایا ہے در و دیو کو بٹھانے کیلئے جگہ بنانے کی غرض سے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو اعلان کہ ناپڑا۔اور اسے ایک بڑا کام سمجھا گیا۔اور خیال کیا گیا۔کہ سو آدمیوں کے بیٹھنے کے لئے کرہ بنانا بھی مشکل ہوگا۔مجھے منارہ مسیح کی تعمیر کے وقت کی یہ بات یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علی الصلاة والسلام شہ نشین پر بیٹھے تھے۔اور میر حامد شاہ صاحب کے والد میر حکیم حسام الدین صاحب سامنے بیٹھے تھے۔سنارہ بنانے کی تجویز ہو رہی تھی۔بچے ہزار جو جمع ہوا تھا۔وہ بنیا دوں میں ہی صرف ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام اس منکر میں تھے کہ اب کیا ہو گا۔حکیم حسام الدین صاحب زور دے رہے تھے۔کہ حضور یہ بھی خرچ ہو گا اور وہ بھی ہوگا۔اور کئی ہزار روپیہ خرچ کا اندازہ پیش کر رہے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلاة و السلام نے اُن کی باتیں شنکر فرمایا۔حکیم صاحب کا منشاء یہ معلوم ہوتا ہے کہ منارہ کی تعمیر کہ ملتوی کر دیا جائے۔چنانچہ ملتوی کر دیا گیا۔" ایک تو وہ وقت تھا۔اور ایک آج ہے۔کہ مسجد مبارک کی توسیع کے لئے عصر کی نمازہ کے وقت میں نے مقتدیوں سے ذکر کیا اور عشاء کی نماز سے پہلے پہلے ۱۸ ہزار کے وعدے اور یہ قوم جمع ہو گئیں۔اور بیرونی احباب کو اس چندہ میں شریک ہونے کا موقع ہی نہ ملا۔یہ نشان کسی نا بینا کو نظر نہ آئے۔مگر ہر دنیا کو نظر آرہا ہے کہ کس طرح خدا تعالیٰ اپنے فضل سے