تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 503
۴۹۰ کے بعد لٹریچر وغیرہ بہتا کر سکتی ہے۔مثلاً ہماری جماعت ہی کو لے لو۔ہم اقلیت ہیں مگر ہم دنیا میں اسلام کو پھیلانا چاہتے ہیں۔ہمارے آدمی اگر روس میں تبلیغ کرنے کے لئے جاتے ہیں تو ہر شخص یہ آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ ۱۷ کروڑ رشین کو مسلمان بنانے کیلئے کتنے کثیر لٹریچر کی ضرورت ہے اور کتنامالی ہے جو اس جدو جہد پر خرچ آسکتا ہے۔ہماری جماعت اس جدو جہدکو کی ور میں جاری رکھ سکتی ہے جب کسی کھانی است پوری نہ چھین لی جائے اور کھانے پینے اور پہننے کے علاوہ بھی اس کے پاس روپیہ ہوتا وہ اس سے ایسے اخراجات کو پورا کر سکے بہن کو وہ اپنی اُخروی بھلائی کے لئے ضروری سمجھتی ہے لیکن کمیونزم کا اقتصادی نظام تو کسی کے پاس زائد روپیہ رہنے ہی نہیں دیتا کیونکہ وہ اس جدو جہد کو کام ہی نہیں سمجھتا اسکے نزدیک مادی کام کام ہیں لیکن مذہبی کام کام نہیں ہیں۔اگر کمیونسٹ یہ کہتے کہ ہم مذہب کے مخالف ہیں اور اُسے غیر ضروری قرار دیتے ہیں تو کو پھر بھی ہمیں اختلاف ہو گا مگر میں افسوس نہ ہوتا۔ہم سمجھتے کہ جو کچھ ان کا دل میں عقیدہ ہے اسی کو اپنی نہ بان سے ظاہر کر رہے ہیں مگر ہمیں افسوس ہے تو یہ کہ کمیونسٹ یہ بات ظاہر نہیں کرتے۔وہ کھلے بندوں یہ نہیں کہتے کہ ہم اپنے نظام کے ما تحت تمہارے مذہب کو اپنے ملک میں پھیلنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔بلکہ وہ گھر کے پچھلے دروازہ سے گھر میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں اور اکثر مذہب کے ماننے والے اُس وقت اُن کی اس چالاکی سے واقف ہوتے ہیں جبکہ وہ اپنی شخصیت کھو چکے ہوتے ہیں اور کمیونزم سے ان کی ہمدردی اور محبت اتنی بڑھ چکی ہوتی ہے کہ ان کی آنکھوں پر پٹی بند ھو جاتی ہے۔کمیونزم اگر کھلے بندوں ہے کہ ہم اخر دی زندگی کو کوئی قیمت نہیں دیتے ہم اس کے پر چارک کے لئے کوئی سامان تمہارے پاس نہیں تھوڑنا چاہتے تو آنکھوں کھلے لوگ اس میں داخل ہوں۔مگر دوسرے ممالک میں اس حصہ کو پوری طرح مخفی رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے اور کہا بھاتا ہے کہ کمیو نہ ہم صرف ایک اقتصادی نظام ہے۔مذہب سے اس کا کوئی ٹکراؤ نہیں۔حالانکہ مذہب نام ہے تبلیغ کرنے کا۔مذہب نام ہے ایک دوسرے کو خدا تعالے کے احکام پہنچانے کا خواہ یہ تقریر کے ذریعہ ہو یا تحریر کے ذریعہ ہو۔لٹریچر کے ذریعہ ہو یا کتابوں کے ذریعہ ہو۔مگر کمیونزم تو کسی انسان کے پاس کوئی زائد روپیہ چھوڑتا