تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 35 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 35

۳۵ پر ایسا قبضہ کرلیا تھا کہ گو اس کا مذہب پر حملہ نہیں تھا مگر لوگوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اس تھیوری کی وجہ سے تمام مذاہب باطل ہو گئے ہیں کیونکہ ارتقاء کا مسئلہ ثابت ہو گیا ہے۔حالانکہ میں مذہب پر اس تھیوری کا براہ راست حملہ ہو سکتا تھا وہ عیسائیت ہے اسلام پر اس کا کوئی حملہ نہیں ہو سکتا تھا۔اسی طرح یہاں تک خدا تعالیٰ کے وجود کا علمی تعلق ہے ارتقاء کے مسئلہ کا مذہب کے خلاف کوئی اثر نہیں تھا۔صرف انتہائی حد تک پہنچ کر اس مسئلہ کا بعض صفات الہیہ کے ساتھ ٹکراؤ نظر آتا تھا اور در حقیقت وہ بھی غلط نہی کا نتیجہ تھا۔لیکن ایک زمانہ ایسا گذرا ہے جب یہ سمجھا جاتا تھا کہ ڈارون تھیوری کے خلاف کوئی بات کہنا عقل اور سائنس پر حملہ کرنا ہے۔مگر اب ہم دیکھتے ہیں آہستہ آہستہ وہی پوروپ جو کسی زمانہ میں ڈارون تھیوریا کا قائل تھا اب اس میں ایک زیر دست کو اس تھیوری کے خلاف پھیل رہی ہے اور اب اس پر نیا حملہ حساب کی طرف سے ہوا ہے۔چنانچہ علم حساب کے ماہرین اس طرف آرہے ہیں کہ یہ تھیوری بالکل غلط ہے۔مجھے پہلے بھی اس قسم کے رسالے پڑھنے کا موقع ملا تھا مگر گذشتہ دنوں جب میں دھلی گیا تو وہاں مجھے علم حساب کے ایک بہت بڑے ماہر پروفیسر مولو ملے جنہیں پنجاب یونیورسٹی نے بھی پچھلے دنوں لیکچروں کے لئے بلایا تھا اور ان کے پانچ سات لیکچر ہوئے تھے۔انہوں نے بتایا تھا کہ علم حساب کی رو سے یہ قطعی طور پر ثابت کیا جا چکا ہے کہ سورج اڑتالیس ہزار سال میں اپنے محور کے گرد چکر لگاتا ہے اور جب وہ اپنے اس چکر کو مکمل کر لیتا ہے تو اس وقت مختلف سیاروں سے مل کر اس کی گرمی اتنی تیز ہو جاتی ہے کہ اس گرمی کے اثر سے کسی وجہ سے اس کے ارد گرد چکر لگانے والے تمام سیارے پچھل کو راکھ ہو جاتے ہیں۔میں نے کہا۔اگر اڑتالیس ہزار سال میں تمام سیارے سورج کی گرمی سے پگھل کر راکھ ہو جاتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ دنیا کی عمر اس سے زیادہ نہیں ہوتی وہ کہنے لگے بالکل ٹھیک ہے۔دنیا کی عمر اس سے زیادہ ہرگز نہیں ہو سکتی۔میں نے کہا ابھی ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ یہ علم قطعی طور پر صحیح ہے لیکن اگر آپ کی رائے کو صحیح تسلیم کر لیا جائے۔۔تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ڈارون تھیوری اور جیالوجی کی پرانی تھیوری بالکل باطل ہے وہ کہنے لگے یقیناً باطل ہیں۔میں نے کہا۔علوم کا اتنا بڑا کمر او آپس میں کسی طرح ہو گیا۔انہوں نے کہا وہ تو معلوم ہیں ہی نہیں عقلی ڈھکو سلے ہیں۔