تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 497
۲۸۵ تشریف لے گئے جہاں حکام اضلاع سے ملاقاتیں بھی کیں اور شرکت گرما میں کئی کئی دن پیدل چل کر علاقہ ملکانہ کا دورہ فرمایا۔واقعات کا قریب سے جائزہ لیا اور میدان جہاد میں کام کر نیوالے مبلغین کو قیمتی ہدایات دیں۔"" نومبر 11ء میں تحریک جدید کا آغازہ ہوا تو آپ اس کی پانچ ہزاری فوج میں شامل ہو گئے۔اور اسکی پہلے سال سے دسویں سال تک (جو آپ کی زندگی کا آخری سال تھا، آپ کی طرف سے جو چندہ اس مد میں دیا گیا اس کی میزان تین ہزارہ تین سو ساٹھ روپے بنتی ہے۔آپ کے اہلبیت اور صاحبزادگان کا چندہ اس کے علاوہ ہے الغرض حضرت نواب محمد علی خانصاحب نزہ ندگی بھر سلسلہ احمدیہ کی نہایت اہم خدمات بجالاتے رہے۔اور ناممکن ہے کہ مسلہ احمدیہ کی کوئی تاریخ آپ کی ان سنہری خدمات کے تذکرہ کے بغیر مکمل قرار دی جا سکے۔حضرت نواب صاحب کی حضرت نواب صاحب کی طبیعت اگست شاد سے علیل چلی آتی تھی پیشاب میں خون آنے کی تکلیف تھی جس کی وجہ سے نقاہت مرض الموت اور تجہیز وتکفین بہت زیادہ ہوگئی۔اور بال خریبی عارضه مرض الموت بن گیا اور آپ بالآخر مسلسل جو تین سال تک اسلام و احمدیت کی مہمات میں شاندار اور نمایاں حصہ لینے کے بعد ار تبلیغ فروری ۶۱۹۳۵۔سلسلہ میں کو اپنے موں کے حقیقی کے دربار میں حاضر ہو گئے۔اناللہ وانا الیه راجعون۔وفات کی خبر سنتے ہی قادیان کے مرد اور خواتین حضرت نواب صاحب کی کو بھٹی پر پہنچ گئے اسیطرح محضر امیر المومنین مصلح موعود بھی تشریف لے گئے اور رات کے گیارہ بجے تک وہیں رہ ہے۔اگلے دن دوپہر کی گاڑی سے آپ کے بعض عزیز جن میں نوابزادہ خورشید علی خان صاحب خلف سرذو الفقار علی خالص اسیا سر موصوف کی بیگم صاحبہ اور اس خاندان کی بعض دیگر خواتیون تشریف لائیں۔نوابزادہ احسان علیخانی صاحب کئی روز پیشتر سے ہی جب سے کہ حضرت نواب صاحب کی طبیعت زیادہ کمزور ہو گئی تھی۔قادیان میں تشریف رکھتے تھے۔حضرت نواب صاحب کے فرزند اکبر نوابزادہ عبد الرحمن خان صاحب بھی کئی روز سے یہاں تشریف فرما تھے۔نواب سر ذو الفقار علی خان صاحب کی صاحبزادی بیگم اعزانہ رسول صاحب آن سندیلہ بھی کئی روز سے یہیں تھیں۔ان کے علاوہ لاہور ، امرتسر، کپور تھلہ ، جالندھر و غیر سے بعض احمدی احباب اور صاحبزادگان خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام بھی نمازہ جنازہ میں