تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 496 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 496

۴۸۴ سے بعد نماز عصر مسجد اقصیٰ میں بالعوض ہے ۱۱ (۵۶۰۰۰ ہزار۔ناقل ) روپیہ ہو گیا یہ وہ فضل اور احسان اللہ تعالیٰ کا ہے کہ اگر میں اپنی پیشانی کو شکر کے سجدے کرتے کرتے گھسا دوں تو بھی خداوند کے شکر سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتا۔میرے سمیسا نا بکا رہ اور اس کے ساتھ یہ نور۔یہ خدا تعالیٰ کا خاص رحم اور فضل ہے اے خدا اے میرے پیارے موں جب تو نے اپنے مرسل کا مجھ کو داماد بنایا ہے اور اسکے لخت جگر سے میرا تعلق کیا ہے تو مجھ کو بھی نور بنادے تاکہ اسکے قابل ہو سکوں لے کان حضرت نواب محمد علی لالا نے خلافت اولی کے زمانہ میں نہ صرف نظام خلافت کے استحکام میں نمایاں حصہ لیا بلکہ سلسلہ احمدیہ کی مالی ضروریات کو پورا کرنے میں ہمیشہ کوشاں رہے۔چنانچہ جماعتی چندوں کے ساتھ ساتھ سلسلہ احمدیہ کے پہلے با تنخواہ مبلغ حضرت شیخ غلام احمد صاحب را حفظ کے سب اخیرا سیاست داییظہ برداشت کئے، دار لشفاء کے ۲۲ مکانوں کے لئے ایک وسیع قطعہ زمین عطا فرمایا اور وسط ساء میں الفضل کے اجرا پر مالی اعانت کی اور اسکی دفتر کے لئے اپنے مکان کی نچلی منزل مخصوص کردی۔چنانچہ حضرت نظیفہ مسیح الثانی نے فرمایا :- تیسرے شخص جن کے دل میں اللہ نے تحریک کی وہ مسکر جی خان محمد علی نعمانی صاحب ہیں آپ نے ور یہ تعداد کیا۔کچھ زمین اس کام کے لئے دی۔پس وہ بھی کسی کو نہیں ہوا شد دعائے نے الفضل کے ذریعہ سے چلائی حصہ دار ہیں اور سابقون ارولون میں ہونے کے سبب اس امر کے اہل ہیں اللہ تعالی ان کو ہر قسم کی معمار سے محفوظ و مامون رکھکر اپنے فضل کے درو از ان کیلئے کھو گئے۔حضرت تخلیفہ اول نے اپنے وصال سے چند روز قبل ہم زما پرچ شدہ کو اپنے آئندہ تخلیفہ کی نسبت جو مشہور و معیشت لکھی اس پر حضرت خلیفہ اول کے حکم سے حضرت نواب صاحب نے بھی جلوہ گواہ دستخط فرمائے۔خلافت ثانیہ کے عہد مبارک میں آپ تیس سال بقید حیاتا رہے اس دوران میں بھی آپ نے خلیفہ وقت کی ہر اہم تحریک میں نمایاں حصہ لیا خصوصا ء کے نہ مانہ ارتداد ملکا نہ میں تبلیغ اسلام کیلئے ایک ہزار روپیہ کی خطیر رقم دینے کے علاوہ پیرانہ سالی کے باوجود اپنے خرچ پر حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی اور حضرت شیخ محمد حسین صاحب بٹائر ڈ سب مجھے علیگڑ ھو کو لیکر ملکا نہ قوم کے علاقوں میں له الفضل در تبلیغ فروری داشت الفضل لم جولائی ۱۳۳ء حث کالم ٢