تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 492
۴۸۰ لیئے وہ راہیں بند ہیں تو خدائے تعالیٰ کے سچے طالبوں کے لئے اسے بڑھ کر کوئی دل توڑ نیوالا واقعہ نہ ہو گا گویا وہ جھیلتے ہی مرگئے اور اُن کے ہاتھ میں بجز چند خشک قصوں کے اور کوئی مغز دار بات نہیں۔نیز آیت اهدنا الصراط المستقيم صراط الذین انعمت عليهم کا مفہوم بیان کرتے ہوئے لکھا یہ آیت صاف بتاتی ہے کہ کمالات امامت کا راہ ہمیشہ کے لئے کھلا ہے اور ایسا ہی ہونا چاہیئے تھا اس عاجز نے اسی راہ کے اظہارہ ثبوت کے لئے ہیں ہزار اشتہار مختلف دیا رو امصار میں بھیجا ہے اگر یہی کھلا نہیں تو پھر اسلام میں فضیلت کیا ہے ؟ یہ تو سچ ہے کہ بارہ امام کامل اور بزرگ اور سید القوم تھے مگر یہ ہرگز پہچے نہیں کہ کمالات میں اُن کے براہمہ ہونا ممکن نہیں۔خدائے تعالیٰ کے دونوں ہا تھ رحمت اور قدرت کے ہمیشہ کے لئے کھلے ہیں اور کھلے رہیں گے اور تین دن اسلام میں یہ بر کتیں نہیں ہوں گی اس دن قیامت آجائے گی۔۔۔۔ایک آدمی آپ لوگوں میں اس مدعا کے ثابت کرنے کے لئے کھڑا ہے کیا آپ لوگوں میں سے کسی کو خیال آتا ہے کہ اس کی آزمائش کروں ؟" سے اس خط کے بعد اگلے سال ہو لائی نشہداء میں پہلی بارہ قادیان پہنچے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے فیضیاب ہوئے۔ازاں بعد اگست شہداء میں آپ حضور اقدس کی زیارت کے لئے لدھیانہ تشریف لے گئے اور بالی رجب پوری طرح اطمینان قلب نصیب ہو گیاتو ۱۹ نومبر نشده ء کو حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی بیعت کر لی اور لکھا کہ :- ابتدا میں گو میں آپ کی نسبت نیک ظن ہی تھا۔لیکن صرف اسقدر کہ آپ اور علماء اور مشائخ ظاہری کی طرح مسلمانوں کے تفرقہ کے مرید نہیں ہیں بلکہ مخالفان اسلام کے مقابل پر کھڑے ہیں مگر الہامات کے بارہ میں مجھ کو نہ اقرار تھا اور نہ انکا نہ پھر جب میں معاصی سے بہت تنگ آیا اور ان پر غالب نہ ہو سکا تو میں نے سوچا کہ آپ نے بڑے بڑے دعوی سے کئے ہیں یہ سب جھوٹے نہیں ہو سکتے۔تب میں نے بطور آزمائش آپ کی طرف خط و کتابت شروع کی سب سے مجھ کو تسکین ہوتی رہی اور جب قریبا اگست میں آپ سے لو وہیا نہ ملنے گیا ے مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر چہارم ملت کا مرتبہ حضرت شیخ تعقیب علی صاحب عرفانی سن اشاعت یکم فروری است تے۔رجر بیت :