تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 493
تو اس وقت میری تسکین خوب ہوگئی اور آپ کو ایک باخدا بزرگ پا یا اور بقیہ شکوک کا پھر بعد کی خط و کتابت میں میرے دل سے بھلی دھویا گیا اور جب مجھے یہ اطمینان دی گئی کہ ایک ایسا شیعہ جو خلفائے ثلاثہ کی کسرشان نہ کر سے سلسلہ سبعیت میں داخل ہو سکتا ہے۔تب میں نے بیعت کرلی۔اب میں اپنے آپ کو نسبتاً بہت اچھا پاتا ہوں اور آپ گواہ رہیں کہ میں نے تمام گناہوں سے آئندہ کے لئے تو بہ کی ہے۔مجھ کو آپ کے اخلاق اور طرز معاشرت سے کافی اطمینان ہے کہ آپ ایک سچے مجدد اور دنیا کے لئے رحمت ہیں۔لے حضرت نور اور با ذکر ازالہ اوہام میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلاة و السلام نے ذی الجوشت گڑھ توا کا ذکر ا ا مطابق جولائی کا عملہ میں ازالہ اوہام حصہ دوم شائع فرمانی تو اس میں اپنے دوسرے محبین کے علا وہ نمبرہ پر حضرت نواب صاحب کا ذکر خاص فرمایا اور اس میں ان کے خواندانی حالات بیان کرنے کے بعد اور مندرجہ بالا خط کا اقتباس دینے سے قبل تحریہ فرمایا :- میں قادیان میں جبکہ وہ ملنے کے لئے آئے اور کئی دن رہے پوشیدہ نظر سے دیکھتا رہا ہوں کہ التزام ادائے نمانہ میں ان کو خوب اہتمام ہے اور صلحاء کی طرح توجہ اور شوق سے نمانہ پڑھتے ہیں اور منکرات اور مرد ہارت سے بکلی مجتنب ہیں مجھے ایسے شخص کی خوش قسمتی پر رشک ہے جس کا ایسا صالح بیٹا ہو کہ باوجود بہم پہنچنے تمام اسباب اور وسائل غفلت اور عیاشی کے اپنے عنفوان جوانی میں ایسا پر ہیز گار معلوم ہو۔معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے تو فیقہ تعالیٰ خود اپنی اصفار پر آپ، زور د ہے کہ رئیسوں کے بیج طریقوں اور چلنوں سے نفرت پیدا کرلی ہے اور نہ صرف اس قدر بلکہ جو کچھ نا جائز خیالات اور اوہام دور بے اصل بدعات شیعہ مذہب میں خلائی گئی ہیں اور جب قد تہذیب اور صلاحیت اور پاک باطنی کے مخالف ان کا عملدرآمد ہے ان سب باتوں سے بھی اپنے نور قلب سے فیصلہ کر کے انہوں نے علیحدگی اختیار کرتی ہے " سے حضرت نواب صاحبہ نے جماعت احمدیہ میں شمولیت کے بعد اپنے اوقات و اموال حضرت مسیح موعود اور سلسلہ منقہ کے لئے عملاً وقف کر دیتے۔لے انزاله او مهام " طبع اول مشت : الخاص - ٤٩