تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 488
کے باوجود بعض جماعتوں نے عدالت تحقیقات میں ان کا ذکر میں انداز میں کیا ہے وہ جس کیا ہے وہ قابل شرم ناشکرے پن کا ثبوت ہے سکھ اور ہند و پریس کاواضح اعترا ای که دربند و پای کی زبانی در دریا راشد خان صاحب کی اب سیکھ مہند ظفر اللہ ۲ فقید المثال جد و جہد کا اعتراف پڑھیے والفضل ما شما تا به الاعداء سکھوں کے ہفت روزہ گورمکھی اخبار " گرج نے آزادی ایڈیشن میں لکھا :- سمجھے خوب یاد ہے کہ سردار ہرنام سنگھے سکھوں کا کیس کمیشن کے سامنے پیش کر رہے تھے تو وہ جائیدادوں باروں اور باٹنگوں کو ہی گناتے رہے لیکن جب سرظفراللہ کی باری آئی تو انہوں نے ایک فقرے میں بات ختم کردی کہ میرا قابل دوست سروں کے بدلہ میں اینٹوں کی گنتی کرتا رہا ہے۔AGAINST HEADS " " 'COUNTING BRICKS اور یہاں آج سروں سے فیصلے ہوں گے، ان کی بات درست تھی۔قوم پتھروں کے ساتھ ہی ٹکرا رہی تھی سکھ لیڈر قوم کی کشتی میں اتنے پتھر ڈال چکے تھے کہ اس کا ہند و پاک سمندر سے تیر آنا مشکل سی بات تھی ملے ١٥ اخبار مهند و جالندھر نے اپنی ۲۷ ستمبر ک شاہ کی اشاعت میں لکھا : " اب 0 اگست کے بعد کی سنتے سر محمد ظفر اللہ خان اور جماعت احمدیہ کے سرکاری ادھیکاری اس بات پر بضد تھے اور ہر ممکن کوشش کر رہے تھے کہ گورداسپور بھی پاکستان میں آئے۔وہ تو قادیان کو پاکستان میں لانا چاہتے تھے نہیں تو اپنا سنٹر ادیان چھوڑنا پڑتا تھا چنانچہ اعلان آزادی سے تین دن پہلے تو عارضی طور پر ضلع گورداسپور بھی پاکستان میں آپکا تھا۔ان تین دنوں میں قادیان کو خوب سجایا گیا تو نے پورٹ تحقیقاتی عدالت " صفر ۲۰۹ به بقت روزه گریچ دبی آزادی اندیشین متعلقہ اقتباس کا چربہ ملاحظہ ہو: "ਨੂੰ ਯਾਦ ਹੈ ਕਿ ਜਦ ਸਰਦਾਰ ਹਰਿਨਾਮ ਸਿੰਘ ਸਿੰਘ ਦਾ ਕੇਸ ਕਮਿਸ਼ਨ ਅੱਗੇ ਪੇਸ਼ ਕਰ ਰਹੇ ਸਨ, ਤਾਂ ਉਹ ਜਾਇਦਾਦਾਂ, ਬਾਰਾਂ ਤੇ ਬਿਲਡਿੰਗਾਂ ਹੀ ਗਿਣਦੇ ਰਹੇ ਪਰ ਸਵ ਸਮੇਂ ਛਬਰਉੱਲ ਦੀ ਵਾਰੀ ਆਈ, ਤਾਂ ਉਸ ਨੇ ਇਕ ਫਿਕਰੇ ਵਿਚ ਹੀ ਗੱਲ ਮੁਕਾ ਦਿੱਤੀ ਕਿ ਮੇਰਾ ਲਾਇਕ ਦੋਸਤ ਸਿਰਾਂ ਦੇ ਬਦਲੇ ਇੱਦਾਂ ਨੂੰ ਗਿਣਦਾ ਰਿਹਾ ਹੈ Counting bricks against heads ਤੇ ਦਬੋ ਅੱਜ ਸਿਖਾਂ ਨਾਲ ਵੇਸਲੇ ਹੋਣੇ ਹਨ। ਉਸ ਦੀ ਤਾਲ ਠੀਕ ਸੀ, ਸਿੱਖ ਆਗੂ ਕੌਮ ਦੀ ਬੇੜੀ ਵਿਚ ਦਾ ਹਿੰਦ-ਪਾਕ ਦੇ ਸਾਗਰ ਵਿਚੋਂ ਰੈਮ ਪੱਥਰਾਂ ਨਾਲ ਟਕਰਾ ਰਹੀ ਸੀ। ਇਹ ਪੰਥਦ ਪਾ ਚੁੱਕੇ ਸਨ ਕਿ ਇਸ 32 : 0 falea, بجواله" الفصل ۲ ۱ر احاد / اکتوبر مش صفحه ۲ : ۲۱۹۵۲