تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 33
افروز خطاب کا مکمل متن درج ذیل کیا جاتا ہے۔حضرت امیر المومنین المصلح الموعود نے تشہیر ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد ارشاد فرمایا کہ اور کی کہ یہ تقریب ہو تعلیم الاسلام کالج کے افتتاح کی ہے اپنے اندر دو گونہ مقاصد رکھتی ہے ایک مقصد تو اشاعت تعلیم ہے جس کے بغیر تمدنی اور اقتصادی حالت کسی جماعت کی درست نہیں رہ سکتی یہاں تک تعلیمی سوال ہے یہ کار پر اپنے دروازے ہر قوم اور ہر مذہب کے لئے کھلے رکھتا ہے کیونکہ تعلیم کا حصول کسی ایک قوم کے لئے نہیں ہے۔ہمارا فرض ہے کہ ہم تعلیم کو بحیثیت ایک انسان ہونے کے ہر انسان کے لئے ممکن اور سہل الحصول بنا دیں۔میں نے لاہور میں ایک دو ایسی انسٹی ٹیوٹ رکھیں جن کے بانی نے یہ شرط لگا دی تھی کہ ان میں کسی مسلمان کا داخلہ نا جائز ہوگا۔مجھ سے سب اس بات کا ذکر ہوا تو میں نے کہا اس کا ایک ہی جواب ہو سکتا ہے کہ مسلمان بھی ایسی ہی انسٹی ٹیوٹ قائم کریں اور اس میں یہ واضح کریں کہ اس میں کسی غیر مسلم کا داخلہ نا جائز نہ ہو گا کیونکہ ایک مسلم کا اخلاقی نقطہ نگاہ دوسری قوموں سے مختلف ہوتا ہے۔پس یہاں تک تعلیم کا سوال ہے ہماری پوری کوشش ہوگی کہ ہر منہ میں قمت کے لوگوں کے لئے تعلیم حاصل کرنا آسان ہو۔اس کالج کے دروازے ہر مذہب و ملت کے لوگوں کے لئے کھلے ہوں اور انہیں ہر ممکن امداد اس انسٹی ٹیوٹ سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے دیا جائے۔دوسرا پہلو اس کا یہ ہے کہ آجکل کی تعلیم بہت سا اثر مذہب پر بھی ڈالتی ہے۔ہم یقین رکھتے ہیں کہ وہ غلط اثر ہوتا ہے کیونکہ وہ مذہب کے خلاف ہوتا ہے۔ہم یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ خدا کا فعل اس کے قولی کے خلاف ہوتا ہے نہ ہم یہ ماننے کے لئے تیار ہیں کہ خدا کا قول اس کے فعل کے خلاف ہوتا ہے۔ہمیں ایک اور ایک دو کی طرح یقین ہے کہ خواہ ہمارے پاس ایسے ذرائع نہ بھی ہوں جن سے ان اعتراضات کا اسی رنگ میں دفعیہ کیا بجا سکتا ہو جیس رنگ میں وہ اسلام پر گئے بجاتے ہیں یا تین علوم کے ذریعہ وہ اعتراضات کئے بھاتے ہیں انہی علوم کے ذریعہ اُئی اعتراضات کا رد کیا جا سکتا ہو۔پھر بھی یہ یقینی بات ہے که خود اهتر اعنات خدا تعالے کی ہستی پر پڑتے ہیں یا جو اعتراضات خدا تعالیٰ کے رسولوں پر