تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 474
۴۶۲ تھی۔مسلمانوں کی طرف ہے لدھیانہ تک کا علاقہ مسلم اکثریت کا علاقہ بیان کیا جاتا تھا اور غیر مسلموں کی طرف سے جمہ پر کام تک کا علاقہ غیر مسلم اکثریت کا علاقہ بیان کیا جاتا تھا۔عارضی انتظامی تقسیم میں راولپنڈی اور ملتان ڈویژن اور لاہور ڈویژن کے جملہ اضلاع سوائے ضلع کانگڑہ کے مغربی پنجاب میں شامل کئے گئے تھے۔اگر ہماری طرف سے ضلع کو معیار قرار دیا جاتا تو ان اضلاع میں سے امر تسر کو ترک کرنا پڑتا۔ایک خدشے کا اظہا کیا گیا کہ گرم ہم نے ضلع کو معیار قرار دیا تو اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جائے گا کہ ہم انتظامی تقسیم سے کم علاقہ لینے پہ رضا مند ہیں اور اس کے نتیجہ میں ممکن ہے ہمارے علاقے کو اور بھی کم کر دیا جائے۔تحصیل کو معیار قرار دینے سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا تھا کہ ضلع فیروز پور کی دو تحصیلیں فیروز پور اور زیرہ مضلع جالندھر کی دو تفصیلیں نواں شہر اور جالندھر مسلم اکثریت کے علاقے میں شمار ہوتی تھیں۔ان کے ساتھ آگے مشرق کی طرف ملحقہ تحصیل دسوہہ مضلع ہوشیار پور تھی۔اس تحصیل میں نہ مسلمانوں کی کثرت تھی نہ ہندو و اور سکھوں کی کثرت تھی۔عیسائی آبادی جس طرف شامل کی بھاتی اس فریق کی کثرت بن جاتی۔اس تحصیل کے عیسائیوں کی طرف سے سرسیری ریڈ کلف کی خدمت میں محضر نامہ ارسال کیا گیا تھا کہ ہمیں مسلمانوں کے ساتھ شمار کیا جائے۔اگر تحصیل کو معیار قرار دیا جاتا تو فیروز پور ، زیرہ ، نواں شہر، جالندھر اور عیسائیوں کے شامل ہونے کے ساتھ دسوہہ، پانچوں تحصیلیں مسلم اکثریت کے علاقے میں شمار ہوتیں۔ریاست کپورتھلہ میں بھی مسلمانوں کی کثرت تھی وہ بھی ان تحصیلوں سے محق علاقہ تھا۔ضلع امرتسر میں اجنالہ تحصیل میں مسلمانوں کی کثرت تھی اور امرتسر اور تو نتارن میں غیر مسلموں کی کثرت تھی لیکن اگر فیروز پور ، زیرہ ، نواں شہر جالند در اور کپور تھلہ پاکستان میں شامل کئے جاتے تو امر تسر اور ترنتارن غیر مسلم اکثریت کے محق علاقے نہ رہتے کیونکہ وہ پچاروں طرف سے مسلم اکثریت کے علاقوں سے گھرے ہوئے تھے۔ضلع گورداسپور میں بٹالہ گوردا پور اور شکر گڑھ کی تھیلوں میں اکثریت مسلمانوں کی تھی تحصیل پٹھانکوٹ میں اکثریت غیر مسلموں کی تھی۔اور یہ تحصیل ضلع کانگڑہ اور ضلع ہوشیار پور سے ملحق بھی تھی جو غیر مسلم اکثریت کے اضلاع تھے۔ہم سب کا میلان اسی طرف ہوا کہ تحصیل کو معیاد قرار دیئے جانے پر زور دیا جائے لیکن ہمارا میلان فیصلہ کن عنصر نہیں تھا۔ہم مسلم لیگ کی طرف سے کیس تیار کر رہے تھے۔ہماری طرف سے کیا کیس پیش کیا جائے اس کا فیصلہ کرنا مسلم لیگ کے اختیار میں تھا۔ہمارے اختیار میں نہیں تھا۔پنجاب میں مسلم لیگ کے صدر جناب نواب صاحب ممدوٹ تھے۔ان سے استصواب لا حاصل تھا۔وہ شدت تواضع احمد