تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 461
۴۴۹ اور غیر مسلموں کی آبادی کے تناسب کے لحاظ سے تھی یعنی تجویز یہ تھی کہ جس تحصیل میں مسلمانوں کی اکثریت ہو اُسے مغربی پنجاب کے ساتھ اور جس تحصیل میں غیر مسلموں کی اکثریت ہو اُسے شرقی پنجاب کے ساتھ شامل کر دیا جائے لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ عیسائی صاحبان کی یہ خواہش ہے کہ پنجاب کی تحصیلوں میں عیسائی آبادی کے لحاظ سے اُن کی تعداد کا زیادہ سے زیادہ حصہ (جس حد تک ممکن ہو سکے، مغربی پنجاب میں شامل کر دیا جائے۔اس نقطہ نظر سے تحصیلوں میں آبادی کے لحاظ سے مسلمانوں اور عیسائیوں کا تناسب حسب ذیل ہو گا :- +1 تحصیل مسلم عیسائی میزان اجنالہ ۶۴۷ فیصدی جالندھر نکودر زیره فیروز پور +4 ۶۶۵۱۶ ۵۵۰۲ " 4۔>۔% 1+9 " ۳۱ - اس نقطہ نظر سے اگر ہم صورت حال کا جائزہ لیں تو ہمیں سرمدات میں کچھ تھوڑی سی ترمیم کرنی پڑیگی ضلع ہوشیار پور کی تحصیل دوسوسہہ میں کل آبادی ۲۷۳۲۴۶ ہے جس میں سے مسلمان ۱۳۲۱۰۵ ہیں۔گویا کہ مسلمانوں کی آبادی ۱۴ ۴۸ فیصدی ہے۔عیسائیوں کی تعداد ۴۷۲۹ ہے۔اب اگر مسلمانوں کی تعداد میں عیسائیوں کی تعداد بھی شامل کر دی جائے تو یہ تعداد ۱۳۶۸۳۴ بن جاتی ہے گویا کہ کل آبادی کے نصف سے کچھ زیادہ ہو جاتی ہے اس بناء پر تحصیل دو سو سہہ ماحق ہے کہ اُسے مغربی پنجاب میں شامل کیا جائے۔۳۲۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ باؤنڈری کمشن کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے پنجاب کے دونوں حصوں کی تقسیم ایسے طریق پر کرے کہ اس کے عمل پر کسی بہت سے بھی وہ امور یا مصالح اثر انداز نہ ہوں جن کا تقسیم کی بنیاد سے کوئی تعلق نہیں۔اور تقسیم کی اصل بنیاد یہ ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کی اکثریت والے علاقے جو مغربی یا مشرقی پنجاب کی سرحدات سے ملتے ہوں اپنی اپنی نوعیت کے لحاظ سے پنجاب کے ان دونوں حصوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ملحق