تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 458 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 458

بھی اسی اصول پر قائم ہے کہ جن علاقوں میں غیر مسلم اصحاب کی اکثریت ہے انہیں ان کی مرضی کے حالات ہرگز ان علاقوں میں مدغم نہ کیا بجائے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔لہذا حقیقت یہی ہے کہ آبادی کی اکثریت والا اصول ہی تمام تقسیم کی جان ہے اور ملک یا صوبہ بات کی اندرونی تقسیم تقاضا کرتی ہے کہ اسی اصول کو حقیقی بنیاد تصور کیا جائے کسی اور معیار کو تقسیم کی بنیاد قرار دینا بالکل غیر متعلق ہوگا اور طے شدہ امور کے قطعی منافی ہوگا۔ہز ایکسیلینسی وائسرائے صاحب نے صاف فرمایا ہے کہ کسی بھی بڑے علاقہ کو جہاں ایک فرقہ کی اکثریت ہے وہاں کے رہنے والوں کی مرضی کے خلاف کسی دوسرے بڑے علاقے میں جہاں وہ اقلیت میں ہو جاتے ہوں مدغم کرنا ہر گز درست نہیں ہوگا“ ۲۳۔چنانچہ اس اصول کے پیش نظر اگر جائداد کی بناء پر کسی بڑے علاقے کو جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے اکثریت کی مرضی کے خلاف مشرقی پنجاب میں شامل کیا گیا اور انہیں مجبور کیا گیا کہ وہ غیر مسلموں کی حکومت میں زندگی بسر کریں تو یہ تقسیم ملک اور تقسیم صوبہ جات کے بنیادی اصول کی خلاف ورزی ہوگی۔۲۴۔یہاں یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی نہایت مناسب ہوگی کہ جس حد تک زرعی زمینوں کی ملکیت کا سوال ہے اگو اس کا تقسیم ملک سے ہرگز کوئی تعلق نہیں اور نہ ہونا چاہیئے، غیر مسلموں کا یہ دعوئی کہ وہ مسلمانوں پہ بہ تری رکھتے ہیں درست نہیں صوبہ کے ان حصوں میں جہاں نئی آباد کاری ہوئی ہے۔اور جین میں ترقیاتی سکیمیں نافذ کی جارہی ہیں مسلمانوں کا حصہ دوسروں پر غالب ہے اور یقیناً اُن کی تعداد کے لحاظ سے اُن کی ملکیت اور آباد کاری کا تناسب بہت زیادہ ہے۔۲۵۔یہاں یہ امربھی یاد رکھنا چاہیئے کہ جب مسلمانوں نے تقسیم ملک کا مطالبہ کیا تو مجملہ دیگر وجوہات کے تقسیم کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ غیر مسلموں نے مسلمانوں کی دولت، ان کی ملکیت اور ان کے وسائل کو انتہائی نا جائز طریقے سے ہتھیا نا شروع کر دیا تھا جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی دولت اور ان کی ملکیت آہستہ آہستہ کم ہوتی گئی اور غیرمسلموں کی دولت اور ملکیت میں اضافہ ہوتا گیا۔اب اگر تقسیم کا اصول آبادی کی اکثریت مان لیا جائے تو یہ انتہائی ستم ظریفی ہوگی کہ مسمانوں کو ان علاقوں سے بھی محروم کر دیا جائے یہاں ان کی اکثریت پائی بھاتی ہے۔باؤنڈری کمیشن کے لئے اس حقیقت پر غور کرنا بھی نہایت ضروری ہے کہ اصلاح شاہ پور، لائلپور ،شیخو پورہ ہنگری اور ملتان کے نو آبادیاتی رقبے در حقیقت مسلمانوں کی