تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 457
پڑے گا جیسے کہ سکھ صاحبان کے جذبات کا۔۵ کم کم ۲۰۔ان دنوں اخبارات میں اس امر کا بھی خاصا پر چھا ہے اور اسے باقاعدہ ایک مہم کی صورت میں چلایا جا رہا ہے کہ پنجاب کی تقسیم جائداد کے اصول کی بناء پر عمل میں لائی جائے۔یعنی "مسلموں" اور "غیر مسلموں کے مابین پنجاب کو ہر دو قوموں کے درمیان ملکیتی جائیداد کے معیار کے مطابق تقسیم کو دیا جائے، یہ دلیل بھی کسی طے شدہ بنیاد کے نہ ہونے کے سبب بالکل بے بنیاد ہے کیونکہ جناب وائسرائے صاحب اپنی پریس کانفرنس منعقدہ ہر چون سال میں صاف اور واضح الفاظ میں اعلان فرما چکے ہیں :- ملک منظم کی حکومت تقسیم کے اصول کو ملکیتی جائداد کی بنا پر طے کیا جانا ہرگز پسند نہیں کرتی “ ۲۱۔اس ضمن میں باؤنڈری کشن کے دائرہ کار اور ان کے مقاصد کا ذکر کہ دینا بھی مناسب ہوگا۔جناب وائسرائے صاحب نے مندرجہ بالا کا نفرنس سے صرف ایک روز بیشتر مورخہ ۳ جون ۱۹۴۷ء کو ریڈیو پر ملک معظم کی حکومت کی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کمشن کی مفوضہ ذمہ داریوں کا بھی ذکر فرمایا تھا چنانچہ وائسرائے کے بیان کے پیرا گراف میں کمشن کی ان ذمہ داریوں کا ذکر موجود ہے۔اس پیراگران میں جو الفاظ اور مضمون بیان کیا گیا ہے اس پر لیگ اور کانگرس دونوں کا اتفاق رائے موجود ہے۔چنا نچہ وائسرائے صاحب نے جو وضاحت اور تشریح فرمائی ان میں یہ صراحت موجود ہے کہ دیگر امور کا جائداد یا ملکیتی زمین سے قطعا کوئی تعلق نہیں ہو گا یہی وجہ ہے کہ اس تشریح کے پیش نظر مسلم لیگ نے باؤنڈری کشن کے دائرہ کار اور اس کے مقاصد کی توثیق کردی۔اب جبکہ مسلم لیگ اور کانگرس دونوں کمشن کے معتین دائرہ کار کے متعلق متفق ہو چکے ہیں کشن کے لئے ہر گز مناسب نہیں کہ وہ اپنے دائرہ کار کی حدود سے تجاوز کرے۔۲۲۔اس کے علاوہ یہ امر یاد رکھنے کے قابل ہے کہ مسلم لیگ کے مطالبات میں جو اس میمورنڈم میں پیش کئے گئے ہیں تقسیم کا بنیادی اصول ” آبادی کو قرار دیا گیا ہے اور یہی اصول غیر مسلم اصحاب نے بھی تسلیم کیا ہے اور وائسرائے صاحب کا سر شجون والا اعلان بھی اسی بنیاد کی توثیق کرتا ہے بچنا نچہ وائسرائے صاحب نے فرمایا کہ غیر مسلم اصحاب کی طرف سے بعض صوبوں کی تقسیم کا جو مطالبہ کیا گیا ہے اس کی بنیا