تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 456 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 456

۴۴ مذہبی یادگاریں اور مقدس مقامات موجود ہیں۔مگر ہمیں یہ علم نہیں ہو سکا کہ اُن کی یہ دلیل کس اصول پر قائم ہے۔کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ مغربی پنجاب میں جہاں جہاں سکھوں کے مقدس مقامات موجود ہیں وہ تمام علاقے مشرقی پنجاب میں شامل کر دیئے جائیں۔ہرگز نہیں۔اگر یہی اصول کار فرما ہو توضلع کمپلیور میں ور میں حسن ابدال کا مقام جہاں پنجہ صاحب واقع ہے مشرقی پنجاب میں شامل کرنا پڑے گا پس " دیگر امور پر غور کرنے کے ہر گز یہ معنی نہیں کہ ہم اس قسم کی بنیادوں پر تقسیم کا کام شروع کر دیں۔آپ نے ملاحظہ فرمایا ہو گا کہ سکھوں کے مذہبی مقامات میں پٹنہ کا مقام بھی شامل ہے۔(جہاں گورو گوبند سنگھ صاحب کی ولادت ہوئی) اور نندھیر کا مقام بھی شامل ہے (جہاں اُن کی آخری آرامگاہ اور کچھ تبرکات موجود ہیں ، اسی طرح مغربی پنجاب کی حدود سے باہر کئی ایسے مقامات ہیں جو سکھوں کے نزدیک مقدس ہیں۔نندھیر کو ہی لے لیجئے جو حضور نظام دکن کی ریاست کی حدود کے اندر واقع ہے۔ان میں سے کبھی بھی کسی کے متعلق یہ نہیں کہا گیا کہ اُسے سیکھوں کے مذہبی مقدس مقام ہونے کی وجہ سے پنجاب کے ساتھ ملحق کر دیا جائے۔بالخصوص نندھیر کا مقام اس لئے قابل ذکر ہے کہ وہ ایک مسلمان حکمران کی راجدھانی میں واقع ہے مگر آجتک سیکھوں کی طرف سے کبھی ایسی شکایت نہیں آئی کہ اس مقام کے بارے میں مسلمانوں کی طرف سے انہیں کبھی کوئی تکلیف پہنچی ہو یا وہاں کی حکومت نے اُن کے ساتھ کوئی متعصبانہ برتاؤ کیا ہو۔-19۔پھر اگر کسی فرقے کے مقدس مقامات یا ان کی مذہبی عبادت گاہیں یا یادگاریں تقسیم کے اصول کی بنیاد بن سکتی ہیں تو پھر یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ مشرقی پنجاب کے اضلاع میں وہ تمام مقامات جہاں مسلمان بزرگوں اور بادشاہوں کے مزالہ ، اُن کی بنائی ہوئی مسجدیں اور ان کے مقدس مقامات موجود ہیں مغربی پنجاب میں شامل کر دیئے جائیں۔آپ کو علم ہے کہ مشرقی پنجاب میں بیسیوں مقامات پر جہاں مسلمان بزرگوں اور ان کے مشائخ اور اُن کے اولیاء کے مزار اور اُن کی مقدس یادگاریں موجود ہیں۔ہر سال بڑی تعداد میں میسلے اور عرس منعقد ہوتے ہیں اور ان میں سے بعض اتنے اہم ہوتے ہیں کہ گورنمنٹ کے مقامی دفاتر میں ان دنوں میں تعطیلات کر دی جاتی ہیں تاکہ عوام ان میں شامل ہوسکیں۔پس مسلمانوں میں بھی عقیدت کے بعد بات کی ہرگز کمی نہیں۔اور اگر یہی اصول کار فرما ہو تو میں بہر حال ان کی عقیدت اور ان کے مذہبی جذبات کا ویسے ہی احترام کرنا