تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 447 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 447

۴۳۵۔اس بنا پر پنجاب کی تقسیم اصولاً خطرناک نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔خطرناک' اس لئے کہ اگر اس صوبے کو تقسیم کر دیا جائے تو لوگوں کی ترقی و خوشحالی اور مجموعی طور پر اس صوبہ کی بہبودی اور اس کے مستقبل پر اس کا نہایت ہی ناخوشگوار اثر پڑے گا۔ہم ملک معظم کی حکومت نے پنجاب کی تقسیم کا جو فیصلہ کیا ہے وہ اپنی خوشی اور رغبت سے نہیں کیا۔اور پھر یہ بھی نہیں کہ وہ اس کے نتائج سے بے خبر تھی بلکہ یہ فیصلہ مجبوراً ملک میں سیاسی پارٹیوں کی آویزش اور اس کے باہمی سمجھوتے کی راہ میں پیدا ہونے والے تعطل کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ملک معظم کی حکومت یہ محسوس کرتی ہے کہ اس تعطل کو دور کرنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ پنجاب اور بنگال کو تقسیم کر دیا جائے چنانچہ اس مقصد کے پیش نظر یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ سیاسی حالات سے قطع نظر کمشن موجودہ حالات کے اُن خاص پہلوؤں کو سامنے رکھے جن میں سے بعض کی نشاندہی جناب والسر کی طرف سے نشر کردہ اعلان مورخہ ۳ بعون نہ میں کی گئی ہے۔یہ نشری اعلان در حقیقت مکہ معظم کی حکومت کے اسی تاریخ کے اعلان کے لئے بطور تمہید کے ہے۔جناب وائسرائے صاحب نے فرمایا ہے۔" مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہندوستان میں نہ تو کیبنٹ مشن کی تجاویز پر اور نہ ہی کسی اور تجویز پر کوئی ایسا سمجھوتہ ممکن ہو سکا ہے جس سے ہندوستان کی وحدت اور سالمیت بر قرار ر ہے ہم ایسے علاقوں میں جہاں ایک فرقہ کی اکثریت آباد ہے انہیں مجبور نہیں کر سکتے کہ وہ اپنی مرضی کے خلاف کسی دوسرے فرقے کی اکثریت کی حکومت کے تحت زندگی بسر کریں۔اس کا لازمی نتیجہ ملک کی تقسیم ہے۔چنانچہ جب مسلم لیگ نے ملک کی تقسیم کا مطالبہ کیا تو کانگرس نے انہی دلائل اور انہی وجوہات کی بناء پر بعض صوبوں کی تقسیم کا مطالبہ بھی پیش کر دیا۔میرے نزدیک یہ دلائل بالکل معقول ہیں۔کسی بھی فریق نے اپنے اکثریت والے علاقے کو دوسرے کی حکومت میں تحویل کرنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔۔چنانچہ پنجاب ، بنگال اور آسام کے ایک حصے میں رہنے والے لوگوں کی رضا مندی کی خاطر یہ ضروری ہو گیا ہے کہ ان صوبوں میں مسلم " اور "غیر مسلم اکثریت والے علاقوں کی حدود کی تعیین کر دی جائے۔گو یہ وضاحت بھی میں کر دینا چاہتا ہوں کہ معین طور پر