تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 29
۲۹ چار سالہ انٹر میڈیٹ کالج تو ہماری ضروریات کے لئے منتفی نہیں۔چنانچہ حضور کے تازہ ارشاد کے مطابق بالکل ہی آخری وقت میں کوشش کرنے پر کالج کی موجودہ شکل کی بھی منظوری حاصل ہو گئی " اس تفصیل کے بعد ملک صاحب موصوف نے کالج کے سٹاف، اس کے نام ، موجودہ شکل ، نام عمارات اور اغراض و مقاصد کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کر سکے بالآخر عرض کیا کہ و جہاں کالج کے قیام کے کام کو کامیابی کے ساتھ انجام دینے میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کی توجیہ اور دعائیں کالج کمیٹی کی مددگار رہی ہیں وہاں کا لج کمیٹی کے صدر ہمارے مخدوم و محترم حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سلمہ الرحمن کی حکیمانہ ہدایات اور مشورے بھی اس کی راہ نمائی کرتے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ حضرت صاحبزادہ صاحب کو جزائے خیر دے" نے ملک غلام فرید صاحب ایم۔اسے مکڑی کا لج کمیٹی کے بعد نیای ایتالیا اسلام کالج کی پوسٹ حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب نے تعلیم الاسلام کالج کے پرنسپل کی حیثیت سے حسب ذیل ضروری کو الف پیش فرمائے۔سينا السلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَعَاتُه ! کالج کمیٹی کی ہدایت کے ماتحت خاکسار تعلیم الاسلام کالج کے داخلہ کے متعلق ابتدائی رپورٹ اور کالج کے طریق کار کا ایک مختصر سا ڈھانچہ پیش کرتا ہے :- اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل سے اے طلبا کانچ میں داخل کئے جا چکے ہیں اور ، طلبہ کی باہر سے درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں سے اکثر کے متعلق امید کی جاتی ہے کہ وہ وقت پر یہاں پہنچ جائیں گے۔اس طرح پر امید ہے کہ انشاء اللہ العزیہ کالج میں 4 سے زائد طلباء امسال داخل ہو جائیں گے۔اور ۲۷ ان اہ طلبہ میں سے جو اس وقت تک داخل ہو چکے ہیں ، ۴ ۲ نے سائنس لی ہے نے آرٹس اور آرٹس میں سے ۲۶ طلبہ نے مسٹری کی ہے ، ۱۶ نے اکنامکس ، ۱۴ نے عربی ، ، انے فارسی ، 4 نے فلاسفی ، نے میتھمیٹکی۔ان اہ طلبہ میں سے ایک تہائی یعنی ۱۷ له الفضل " پر احسان احون مش صفحه ۳ کالم ۳ * 14