تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 439
۴۲۷ آباد ہونا شروع کیا تاکہ وہ اپنے مقدس امام کے قدموں میں بیٹھ کر روحانی فیض حاصل کریں اور اپنے علم اور معرفت کی تشنگی کو بجھائیں۔آج قادیان کی آبادی پندرہ ہزار نفوس سے زائد ہے جس میں تقریباً و فیصدی احمد می ہیں۔میں یہ وضاحت اس لئے کر رہا ہوں تا کہ آپ کو علم ہو سکے کہ جماعت کے لوگوں کو اپنے مرکز سے کس قدر محبت اور عقیدت ہے۔آج قادیان میں بنگال ، آسام، بہار، اڑیسہ، یوپی سی پی ، حید باریکی، مدراس ہمبئی سندھ ، لنکا، افغانستان، ماریشس، انڈونیشیا، ترکی ، شام، چین اور انگلستان تک سے آنے والے لوگ آباد ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے اپنے وطن سے پہلے تو اس نیت کے ساتھ آئے کہ یہاں عارضی رہائش رکھ کر دین سیکھیں مگر پھر اُن میں سے بڑی اکثریت نہیں مستقلاً آباد ہو گئی اور انہوں نے قادیان کو اپنا وطن بنالیا۔مرکز احمدیت کی عالمگیر کشش اور تحریک احمدیت کی ہمہ گیری کا اندازہ آپ اس امر سے بھی کر سکتے ہیں کہ ماعت احمدیہ کی شاخیں امریکہ ، کینیڈا، ارجنٹائن ، انگلستان ، فرانس ، سپین، اٹلی، شام فلسطین، ایران، افغانستان ، چین ، لنکا ، ماریشس، برما، ملایا ، انڈونیشیا ، کینیا ، ٹانگانیکا، یوگنڈا، ابی سینیا ، سوڈان ، نائیجیریا ، گولڈ کوسٹ اور سیرالیون میں قائم ہیں۔ان میں سے بعض مقامات پر سینکڑوں کی تعداد میں مقامی احمدی احباب موجود ہیں جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ یہ جماعت نہ صرف گنتی کے لحاظ سے مضبوط ہے بلکہ اس کو ایک بین الا قوامی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔جناب والا ! اب میں آپ کے سامنے سکھوں کے ان دعا دی کے متعلق کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں جن کی بنیاد ان کے مقدس مذہبی مقامات پر ہے۔ان کے نزدیک ننکانہ صاحب کا مقام اس لئے مقدس ہے کہ وہاں حضرت با با گورو نانک کی پیدائش ہوئی۔سری گوبند پور اس لئے مقدس ہے کہ وہ سیکھوں کے تمیرے گورو کے ساتھ ایک خاص تعلق رکھتا ہے اور امرتسر کے مقام کو اس لئے تقدیس حاصل ہے کہ اس کا تعلق سیکھوں کے چوتھے گورو صاحب کے ساتھ ہے۔ہمیں ان دعاوی کے متعلق سکھ صاحبان کے مذہبی جذبات کے پیش نظر کوئی بحث نہیں کرنا چاہتا۔مگر میں یہ ضرور عرض کروں گا کہ اگر آپ ان مقامات کی آبادی کا نقشہ اور ان کے اعداد و شمار ملاحظہ فرمائیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ امرتسر میں سکھوں کی آبادی کا تناسب ۱۵/۰۳ فیصدی ہے۔ننکانہ صاحب میں جہاں کہ حضرت بابا گورو نانک صاحب کی پیدائش ہوئی سکھوں کی تعداد تیرہ ہزار کی آبادی میں سے صرف ۵۴۳۷ ہے اور سری گویند پور تو