تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 438 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 438

۳۲۶ پھر اس کے بعد ولیم کیش ( WILLIAM CASH) اپنی کتاب " EXPANSION OF ISLAM * کے صفحہ ۲۲۲ پر تحریر فرماتے ہیں:۔یہ فرقہ (جماعت احمدیہ مسلمانوں کے تمام فرقوں میں سب سے زیادہ اشاعت اسلام کی تڑپ رکھنے والا ہے" جناب باسل میتیوز ( BASIL MATHEWS ) اپنی کتاب "YONE ISLAM INTREK کے صفحہ ۱۳۶ پر لکھتے ہیں:۔۔با وجود اس کے کہ اس جماعت (جماعت احمدیہ کی تعداد تھوڑی ہے مگر اس کا اثر و نفوذ اس کے مقابل پر بہت زیادہ ہے " ان تمام حوالہ جات کو پیش کرنے سے میرا مقصد یہ ہے کہ میں آپ کی خدمت میں یہ واضح کروں کہ دوسر مقتد را اصحاب جماعت احمدیہ کے متعلق کیا رائے رکھتے ہیں۔اور یہ بالکل سچ ہے کہ جماعت احمدیہ اپنا ایک خاص اور منفرد مقام رکھتی ہے اور اس جماعت کا مرکز قادیان تمام دنیا کے احمدیوں کی سرگرمیوں اور ان کی تبلیغی مساعی کا مرکز ہے کیونکہ اسی مقام سے انہیں ایک روحانی کشش حاصل ہوتی ہے اور یہی جماعت کی تبلیغی تڑپ کی بیان ہے۔میں آپ کے سامنے بالکل سادہ حقائق پیش کر رہا ہوں بچنا نچہ اسی سلسلے میں جب میں آپ کے سامنے سکھ صاحبان کے تین مقدس مذہبی مقامات کا ذکر کروں گا تو آپ پر قادیان اور ان مذہبی مقامات کا فرق واضح ہو جائے گا۔جماعت احمدیہ کے افراد کو جو بے پناہ عقیدت اور محبت اپنے امام یعنی بانی سلسلہ احمدیہ سے ہے اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ نتشار میں قادیان کی آبادی مشکل چالیس پچاس احمدی گھرانوں پشتمل منفی به لیستی فقط ایک معمولی سا گاؤں تھا جس کی کوئی بھی خصوصیت قابل ذکر نہ تھی۔نہ یہاں ذرائع آمد و رفت تھے اور نہ ہی کوئی سلسلہ رسل و رسائل۔غرض کہ اس وقت کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ بستی کسی وقت ایک عظیم الشان اور ترقی یافتہ قصبہ کی شکل اختیار کرلے گی۔جسٹس تیجا سنگھ : اس فرقے کی بنیاد کب پڑی ؟ شیخ بشیر احمد : یہ فرقہ شر میں قائم ہوا۔میں عرض کر رہا تھا کہ منشائر میں اس کی آبادی چند گھروں سے زائد نہیں تھی۔مگر اس کے بعد رفتہ رفتہ لوگوں نے دُور و نزدیک سے اپنے اپنے گھروں کو چھوڑ کر یہاں