تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 437
۲۴۲۵ اشاعت کرنے والے ہیں۔ڈاکٹریسی بیری ( LACEY BEERY ) اپنی کتاب ISLAM AT THE CROSS ) ROADS کے صفحہ 99 پر لکھتے ہیں :- " احمدی مبلغ نہ صرف ہندوستان کے مختلف حصوں میں بھیجے جاتے ہیں بلکہ انہیں شام، مصر اور انگلستان میں بھی بھیجا جاتا ہے اور پھر اُن کا کام صرف یہی نہیں کہ وہ لوگوں کو اسلام میں واحل کریں بلکہ وہ بر طانوی عوام کے نقطۂ نظر کو اسلام کے بارے میں نہایت بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔اس کے علاوہ وہ اُن کے دلوں میں اسلام کے متعلق ہمدردی خلوص اور یگانگت کے جذبات پیدا کر کے وہ تمام غلط فہمیاں اور کدورت دُور کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو دلوں میں پیدا ہو گئی ہوں اُن کی کوشش ہر لحاظ سے قابل تعریف ہے " پھر جناب سرٹامس آرنلڈ اپنی کتاب " ISLAMIC FAITH " کے صفحہ ۱۷۰ " کے صفحہ ۷۰-۷۱ پر لکھتے ہیں :۔" حضرت احمد (علیہ السلام) کی جماعت کا اکثر حصہ تو پنجاب میں ہے۔لیکن اُن کے مبلغین نہایت سرگرمی سے اشاعت اسلام کا کام انگلستان، جرمنی ، برطانوی مقبوضات کے علاقوں میں اور اُن کے علاوہ دنیا کے دوسرے علاقوں میں بھی سر انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے نہ صرف عام مسلمانوں کو نئے سرے سے اسلام میں داخل کیا ہے بلکہ وہ بہت سے عیسائیوں کو بھی حلقہ بگوش اسلام کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں“ پھر پروفیسر ایچ۔اے۔گب ) ( PROF۔H۔A GIBB ) اپنی کتاب " WHETHER ISLAM کے صفحہ ۲۱۴ پر تحریر فرماتے ہیں :۔تحریک احمدیت نے اپنی فعالیت اور کشش کے باعث تمام دنیا میں اپنے پیرو کار پیدا کر لئے ہیں۔اس تحریک کے بانی حضرت مرزا غلام احمد صاحب تھے جو قادیان (پنجاب) کے رہنے والے تھے۔جادا اور سماٹرا کے ممالک میں اس تحریک نے دوسری اسلامی تنظیموں کے بالمقابل اپنے آپ کو بہت زیادہ موثر بنا لیا ہے۔احمدیت کے عقائد ایک خاص اخلاقی رنگ رکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اہل دانش کے لئے یہ تحریک بہت زیادہ کشش کا باعث ہے "