تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 436
جسٹس تیجا سنگھ : پچاس ہزار تو برطانوی پنجاب میں ہوئے۔اس کے علاوہ دیگر مقامات پر کتنے ہیں ؟ شیخ بشیر احمد کل تعداد غالب دس لاکھ ہوگی اور یہ بڑا محدود اندازہ ہے جیسا کہ میں ابھی آپ کے سامنے اعداد و شمار پیش کروں گا۔بہت سے غیر ممالک میں رہنے والے افراد اپنے آپ کو احمدی " کہلانا پسند کرتے ہیں۔جسٹس دین محمد: آپ کے پیش کردہ اعداد و شمار کی ترتیب میں کسی قدر غلط فہمی معلوم ہوتی ہے۔آپ نے کہا تھا کہ وہ لاکھ احمدی پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں اور ھ لاکھ دوسرے علاقوں سے پھر آپ نے یہ بھی کہا تھا کہ پچاس ہزار احمدی جلسہ سالانہ میں شریک ہوتے ہیں۔شیخ بشیر احمد جناب! یہ حقیقت ہے اور اس کی تصدیق ریلوے کے حکام سے کی جاسکتی ہے۔جسٹس تیجا سنگھ ، آپ کو یہ اعداد و شمار کیسے معلوم ہوئے جب کہ مردم شماری سے اتنی تعداد ثایت نہیں ہوتی۔شیخ بشیر احمد، جب پچاس ہزارہ افراد جلسہ سالانہ میں شرکت کرتے ہیں تو اس سے بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے کہ جماعت کی اصل تعداد کیا ہوگی۔واقعہ یہ ہے کہ یہ جماعت ایک عالمگیر پیغام کی حامل ہے اور دائرہ اسلام میں اس کی حیثیت ایک بہت بڑی بین الا قوامی تحریک کی سی ہے۔۔۔۔میں آپ کے سامنے بعض الاقوامی مقتدر اصحاب کی وہ آراء پیش کرنا چاہتا ہوں جو انہوں نے جماعت احمدیہ کے متعلق ظاہر کی ہیں۔سب سے پہلے تو میں انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا کے چودھویں ایڈیشن کا حوالہ پیش کرتا ہوں جس کی جلد کے صفحات ۱۱ ۷ - ۷۱۲ پر لکھا ہے:۔جماعت احمدیہ : اشاعت اسلام کے سلسلے میں اس جماعت کی سرگرمیاں صرف ہندوستان مغربی افریقہ ، ماری اور جاو اتک ہی محدو نہیں بلے بانوی زیکو سٹور کیا اور لنڈن تک پھیلی ہوئی ہیں اور انہوں نے بہت سے نور در بین اصحاب کو دائرہ اسلام میں داخل کرنے میں معاصی کامیابی حاصل کی ہے۔اس کے بعد ایک مصنف میں نام کریون ہے۔رسالہ مسلم ورلڈ مجلد ۲۱ نمبر ۲ کے صفحہ ۵۱ پر لکھتا ہے۔اب ہم احمدی اصحاب کا ذکر کرتے ہیں جو کٹر ہندوؤں کے بالمقابل مسلمانوں میں بھی ویسے ہی پختہ عقیدے کے مالک ہیں۔ان کا جوش ، اخلاص اور بعد یہ قربانی نہایت قابل تعریف ہے" ڈاکٹر مر سے (۲۵۷ (( اپنی کتاب " انڈین اسلام" کے صفحہ ۲۲۳ پر رقمطراز ہے :- احمدی صاحبان اس وقت دنیا میں اسلام کے سب سے بڑے قدیمی اولہ اس کی سب سے زیادہ i