تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 435 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 435

۴۴۳۳ حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی عالمگیر تحریک کا مرکز قادیان ہے۔آپ کی تحریک کے آغاز سے ہی اس مقدس مقام سے روشنی اور ہدایت کی کرنیں چار دانگ عالم میں بکھرنا شروع ہوگئیں۔چنانچہ دُنیا کے تمام حصوں سے بے شمار لوگ اپنی روحانی پیاس بُجھانے اور اپنے علم و معرفت میں اضافہ کے لئے اس مقام پر آنا شروع ہو گئے۔آج اسی مقام پر آپ کا جسم اطہر دفن ہے اور حضور کے ساتھ ہی سینکڑوں کی تعداد میں جماعت کے چیدہ اور سریہ آوردہ افراد کہ جنہوں نے اپنی زندگیاں اسلام کی اشاعت کے لئے صرف کر دیں اور اسلام کی خاطر مسلسل قربانی اور ایثار کا مظاہرہ کیا یہاں دفن ہیں جماعت کے علماء یہاں مسلسل تعلیم و تربیت کے کام میں مشغول ہیں اور سماعت کی مرکزی انجمن کا بتو صدر انجمن احمدیہ کہلاتی ہے یہاں مستقل مرکز موجود ہے۔اسی طرح جماعت کا خزانہ جہاں لاکھوں روپے چندے کے طور پہ وصول ہوتے ہیں اسی مقام پر ہے۔یہاں مبلغین کا ایک کالج بھی موجود ہے جہاں جماعتی ضروریات کے مطابق مختلف بریتیان اور معلمین تیار کئے جاتے ہیں اور پھر ان سب سے بڑھ کر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے خلیفہ ثانی کر چین کے وعظ و نصیحت کو سننے کے لئے دور دراز سے لوگ آتے ہیں یہاں قادیان میں موجود ہیں۔غرضکہ قادیان جماعت احمدیہ کا ایک زندہ اور فعال مرکز ہے اور یہ جماعت کی دینی اور ملی سرگرمیوں کی آماجگاہ ہے کیونکہ جماعت کے افراد یہاں متعدد مرتبہ اپنی روھانی اور علمی پیاس کو بجھانے اور اپنی مذہبی، تہذیبی اور تمدنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے سلسلے میں کثرت کے ساتھ آتے رہتے ہیں۔جسٹس محمد منیر: جماعت کی تعداد کتنی ہے ؟ شیخ بشیر احمد : پانچ لاکھ جسٹس تیجا سنگھ کیا گذشتہ مردم شماری میں انہیں علیہ طور پر شمار کیا گیا تھا ؟ شیخ بشیر احمد گذشته مردم شماری میں احمدی اور غیر احمدی میں کوئی امتیاز نہیں کیا گیا۔ہاں البتہ اگر کسی نے اصرار کیا کہ میرے نام کے ساتھ شیعہ" لکھا جائے تو اس کے نام کے ساتھ شیعہ لکھ لیا گیا۔اور اگر کسی نے کہا کہ اس کے نام کے ساتھ حنفی لکھا جائے تو حنفی لکھ لیا گیا۔جلسہ سالانہ کے موقعہ پر عموماً پچاس ہزار سے زیادہ افراد قادیان آتے ہیں اور اس حقیقت کا ثبوت خود ریلوے کئے ٹکٹوں کی فروخت سے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔جلسے میں عملاً شرکت کرنے والے پچاس ہزار سے بھی زائد ہوتے ہیں۔