تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 434 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 434

۲۲ اگلے روز مورخہ ۲۶ جولائی کا لنڈ یا ونڈری کمیشن کا اجلاس لاہور کی ہائیکورٹ کی عمارت میں صبح۔ابجے شروع ہوا :- شیخ بشیر احمد کل عدالت کے برخاست ہونے سے پہلے میں آپ کی خدمت میں یہ عرض کر رہا تھا ، کہ جہاں تک کمیشن کے دائرہ کار اور اس کے مقاصد کا تعلق ہے۔حدود کی تعیین کے بارے میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہ تعیین صرف " اکثریت والے علاقے " کے اصول کی بناء پر ہی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔حدود کی تعیین کے لئے خواہ آپ ” تحصیل " کو معیار بنائیں یا " ذیل کو ، تھانے کے حلقے " کو معیار مقرر کریں یا قانونگو کے حلقے کو ، ہر صورت میں قادیان " مسلم اکثریت والے علاقے " میں آتا ہے۔جہانتک " دوسرے عناصر " کا تعلق ہے، میں نے عرض کیا تھا کہ سکھوں کی طرف سے بعض تجاویز پیش کی گئی ہیں جن کی بنیاد اُن کے مقدس مذہبی مقامات کی تاریخی اہمیت پر ہے۔یہ مقامات ننکانہ صاحب، امرتسر اور سری ہرگوبند پور میں واقع ہیں۔میں یہاں اس امر کا بھی ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ مذہبی مقامات کی اہمیت ، خود انگلستان کے ایوان جمہور" یا " ہاؤس آن کا منتر" میں بھی تسلیم کی گئی ہے اور اب یہ فاضل سمجھوں پر منحصر ہے کہ وہ ان مذہبی مقامات کی اہمیت کو کتنی وقعت دیتے ہیں۔پور کیف اگر مذہبی مقامات کے تقدس اور ان کی اہمیت کو پیش نظر رکھا جائے تو میں یہ عرض کروں گا کہ قادیان جیسے عظیم الشان مذہبی مرکز کو بعض ایسی خصوصیات حاصل ہیں جن کی بناء پر است اولین استحقاق کا حامل قرار دیا جا سکتا ہے اور اس کی شمولیت " کے سوال پر نہایت سنجیدگی سے غور کرنا ضروری ہے۔قادیان حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا مولد اور مرکز ہے جناب بائی سلسلہ احمدیہ نے دعوی کیا کہ وہ اس آخری زمانے میں مسیح اور مہدی کے مقام پر فائز ہیں۔بیشک آپ کے اس دعوئے کی سخت مخالفت ہوئی مگر اس مخالفت کے باوجو د تھوڑے ہی عرصہ میں آپ کے ارد گرد دور و نزدیک سے بہت سے لوگ آپ کے جھنڈے تلے جمع ہو گئے۔یہ کہنا بالکل سچ ہے کہ آپ کو یہ ملین ترین روستانی مرتبہ حضرت محمد عربی صلے اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے نتیجہ میں ملا اور آپ انہی کے خادم ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔