تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 433 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 433

۴۲۱ تاریخ کا مرکز ہے۔یہاں سب سے پہلے گورو را مد اس کے شمارہ میں تالاب کے کنارے آباد ہوئے جہاں مغل بادشاہ اکبر کی طرف سے انہیں شاہ میں پانچ صد بیگھہ زمین عطا فرمائی گئی۔تالاب کا نام " امرت سر" یا "آب حیات کا چشمہ " رکھا گیا۔گو بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس نام کی وجہ ایک گرد امرد اس تھے جو گورو را مد اس سے پہلے گزر چکے تھے۔گورو ارجن نے یہ سنہری گوردوارہ دو بار صاحب) تعمیر کیا اور پھر رفتہ رفتہ اس کی مذہبی اور سیاسی اہمیت میں اضافہ ہوتا گیا۔سلائے او میں احمد شاہ ابدالی کی واپسی کے وقت جبکہ اس کے در و دیوار تقریباً کھنڈرات کی شکل اختیار کر چکے تھے اس نے پھر ترقی کرنی شروع کی اور جلد ہی یہ ایک آزاد سیکھ جماعت کا مستقل اور معروف مرکز بن گیا۔" اکال بنگہ" کا مقام اور اس کی عمارت حسن کا رخ دربار صاحب کی طرف ہے سیکھوں کے لئے ایک ردھانی مرکز کی حیثیت رکھتی ہے اور " بابا اٹل " کی سات منزلہ عمارت جس کو بنے ہوئے اب تقریباً ایک صدی ہو گئی ہے گو رو ہرگوبند صاحب کے ایک لڑکے کی یادگارہ کے طور پر قائم ہے۔امرت سر سے ایک پختہ سٹرک جس کی لمبائی کہ امیل ہے اس شہر کو ترن تارن سے ملاتی ہے اور ترن تارن کا قصبہ امرتسر کے ماجھا علاقہ کا مشہور ترین مقام ہے مگر اس کی تمامتر اہمیت مذہبی رنگ رکھتی ہے۔اس تقدس کا مرکز وہ تالاب ہے جو تقریباً تین سو مربع گز ہے اور جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُسے گورو ارجن صاحب نے تعمیر کروادیا۔تالاب کے پیاروں طرف چلنے پھرنے کے لئے پختہ روشیں قائم ہیں۔مہاراجہ رنجیت سنگھ کو ترن تارن کے گوردوارہ سے بیحد عقیدت تھی۔یہ گوردوارہ شاید میں تعمیر ہوا۔اور مہاراجہ کے حکم سے اس پر تانبے کی چمکدار پتریاں چڑھائی گئیں۔جہانتک گورداسپور کا تعلق ہے " امپیریل گز انسانی پنجابی کی جلد دوم صفحہ 29 میں لکھا ہے کہ اس مضلع کی تمام تاریخی اہمیت زیادہ تمہ اس وجہ سے ہے کہ اس ضلع کا تعلق سکھوں کے عروج کے ساتھ وابستہ ہے۔دریائے راوی کے کنارے ڈیرہ بابا تانک کے مقام پر سکھوں کے مقدس مقامات (عدالت برخاست ہو گئی)