تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 28
۲۸ کی کہ ابھی تو لنگر خانے سے آتا ہے۔برتن وغیرہ نہیں خریدے گئے اس لئے پکنا شروع نہیں ہوا۔اسی دن حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو واقعی ہماری اماں جان تھیں اپنے ذاتی برتن ہمارے استعمال کے لئے بھیجوا دیئے جن پر نصرت جہاں بیگم کے مبارک اور تاریخی الفاظ کندہ تھے مجھے یاد ہے کہ ان برتنوں میں علاوہ دیگر استعمال کے برتنوں کے ایک پریشر گر بھی تھا جس کے اندر کئی خانے تھے۔یہ برتن ہم کافی عرصہ استعمال کرتے رہے۔ہوسٹل میں ترجمہ القرآن کا دفتر تھا جہاں حضرت مولوی شیر علی صاحب رضی اللہ عنہ با قاعدہ تشریف لاتے گرما کی تعطیلو کے بعد کالج کھلا تو دفتر بیت الحمد میں منتقل ہو گیا۔طلباء کی آمد آمد ہوئی تو گیسٹ ہاؤس سارے کا سارا خالی ہوا پھر بھی گنجائش نہ رہی تو حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے از راہ شفقت بيت الحمد کے سامنے والے کمرے ہوسٹل کو مرحمت فرما دیئے جہاں طلبار نے ہوسٹل کے انتفاخ تک تقسیم ہے۔یہ ہ ہی کی بات ہے کہ حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اجازت سے ہوسٹل کا نام فضل عمر مروسل رکھا گیا۔اس پر بہت سے مبارکباد کے مخطوط آئے“ تعلیم الاسلام کالج کا باقاعدہ تعلیم الاسلام کالج قادیان کا باقاعدہ افتتاح ۴ احسان ارجون افتتاح کو بوقت ساڑھے سات بجے شام تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کی سابق عالیشان عمارت کے وسیع ہال میں ہوائی تلاوت و نظم کے بعد ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے سکرٹری کالج کمیٹی نے ایک مفصل رپورٹ سنائی جس میں کالج کی تحریک سے لیکر اس کی منظوری تک کے واقعات پر جامع نظر ڈالی اور بتایا کہ گذشتہ سال جب مجھے لاہور بھیجا گیا ہمیں مجود احمدیہ کالج کے قیام کے لئے کوشش کروں تو اس وقت پروگرام یہ تھا کہ جماعت کی موجودہ مالی حالت ایک پور نے ڈگری کالج کے عظیم مصارف کا بوجھ برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتی۔اس لئے فی الحال ایک ایسے انٹر میڈیٹ کالج کے لئے درخواست کی بجائے جس میں سکول کی ہائی کلاستر بھی ساتھ ہوں تا ہائی سکول کی عمارت اور ہائی کلاسز کے عملے کے کالج میں شامل ہونے سے بہت سے اخراجات کی بچت ہو جائے مگر حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم تو اگلے سال پورا ڈگری کالج بنا رہے ہیں۔یہ ہائی کلاستر والا باه " الفضل" بر احسان جون س ش صفحه ۲ کالم :