تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 428 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 428

ہے اور ضلع امرت سر کے ساڑھے چار لاکھ نہری ایکڑوں میں اجنالہ کا بھی معقول حصہ شامل ہے اگر پھر بھی امرت سر کے ضلع کو اہمیت دینی ضروری سمبھی بھائے تو گورداسپور کے نہری پانی کو بقیہ نہری پانی سے الگ کر دیا جائے اور اس تبدیلی پر سجو خرچ ہو وہ مغربی پنجاب سے لے لیا جائے۔اسی طرح لاہور کی نہر بھی اجتنالہ کے واسطے سے الگ ہوسکتی ہے جو پانی قصور کی طرف امرت سر کی طرف سے جاتا ہے وہ اجنالہ کے نہری پانی کی مقدار بڑھا کر لاہور کی طرف سے تصور کی طرف منتقل کیا جا سکتا ہے بغیر اس کے کہ امرت سر کے پانی کو کوئی نقصان پہنچے۔یہ خیال رہے کہ ضلع امرت سر کی تحصیل اجنالہ میں مسلم اکثریت ہے اور تصور میں تقسیم کئے جانے والے پانی کو اس تحصیل کے ذریعہ سے تحصیل ہہور میں سے گزارا بجائے تحصیل لاہور کا پانی پہلے سے ہی اس نہر کے ذریعہ سے ہی بھاتا ہے۔اگر کسی وجہ سے یہ صورت بھی تسلی بخش نہ سمجھی بھائے تو جہاں تک نہر کے انتظام کا تعلق ہے یہ انتظام مشرقی اور مغربی پنجاب کی حکومتوں کا مشترکہ رکھا جا سکتا ہے۔اسی طرح آبادی کی اکثریت کو قربان کرنے کے اخیرا یک صورت پیدا کی جاسکتی ہے اور اس قسم کے انتظام یورپ کے کئی ممالک میں دریاؤں کے متعلق کئے بھا چکے ہیں۔۔اسی طرح جہاں ریلوے لائن کے بارہ میں اس قسم کی دقت ہو اور ریل کا راستہ بدلا نہ جاسکے تو متعلقہ حصہ میں ریل کا انتظام بھی دونوں حکومتوں کو مشترکہ طور پر دیا جا سکتا ہے مگر کثرت آبادی کو دوسری قوم کے ماتحت کر کے تباہ نہیں کرنا چاہیئے۔4۔اوپچہ کے اصولوں میں سے جو اصول بھی اختیار کیا جائے وہ مسلمانوں اور غیر مسلمانوں پر کیاں طور پر چپ یاں ہونا چاہیے۔یہ نہیں کہ ایک جگہ غیر مسلموں کو اس سے فائدہ پہنچتا ہو تو اس کو استعمال کر لیا جائے مسلمانوں کو فائدہ پہنچتا ہو تو چھوڑ دیا جائے۔- اگر بہر حال سیکھوں کو خوش کرتا ہے تو بٹالہ تحصیل کا وہ حصہ جو دریائے بیاس پر واقع ہے۔کوئی چار پانچ میں چوڑا اور اتنا لمبا کہ سری گوبند پور اس میں آجائے ضلع امرتسر میں ملا دیا جائے اسی طرح بٹالہ تحصیل کے بقیہ حصہ میں مسلمانوں کی آبادی کی نسبت اور بھی بڑھ جائیگی جو ویسے بھی یہ آبادی سالم تحصیل میں ۵۵ بر ہے۔اسی طرح پٹھانکوٹ کی تحصیل کا وہ حصہ جو