تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 421 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 421

ہے کہ جو آپ کے مقامی سکرٹریوں اور معاونین کی طرف سے میرے حلقہ میں ہر جگہ مجھے علی ہے۔آپ کی کوششوں کے نتیجے میں قریباً سات ہزار رنگروٹ فوجی خدمات کے لئے بھرتی ہوئے ہیں۔مجھے بڑی خوشی ہوگی۔اگر آپ اپنے ماتحتوں کو ہدایت جاری کر دیں کہ وہ اپنی کوششوں کو دو چند کر دیں تاکہ ہم اتنی ہی مدت میں پہلے سے دُگنے رنگروٹ حاصل کرنے میں کا میاب ہو جائیں۔میں یقیناً امید رکھتا ہوں کہ آپ آئندہ بھی اسی طرح جاری رکھیں گے" رڈی او نمبر جے ایم / ۲۹۳۶۱۱۷ دفتر ٹیکنیکل بھرتی جالندھر مورخه ۱۲ پریل سخن ) اس خط میں صرف ان احمدی رنگروٹوں کا ذکر ہے جو کہ اپریل ۱۹۳۳ مر تک پنجاب کے صرف ایک ڈویژن میں بھرتی ہوئے تھے۔اگر دوسرے ڈویژنوں اور بعد میں بھرتی ہونے والے رنگروٹوں کو شامل کیا جائے تو تعداد ۱۵۰۰ سے بہت زیادہ ہو جائے۔پس ہمارے نزدیک اگر سکھوں کی خدمات ان کو پنجاب کی تقسیم میں کسی قسم کے خاص لحاظ کا حقدار بنا دیتی ہیں تو جماعت احمدیہ بھی اپنی خدمات کے عوض اسی طرح کے لحاظ کی حقدار ہے۔یہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ سکھوں کی مقدمات کا اور طرح سے بھی بدلہ دیا جاتا رہا ہے لیکن جماعت احمدیہ نے کبھی اپنی خدمات کے عوض کسی بدلے کی خواہش نہیں کی ہے۔قادیان ایک شہر ہے۔اس لئے شہر کے مطالبات کو ارد گرد کے کسی ایک دہ یا کئی دیہات کے مطالبات پر ترجیح ملنی چاہئیے۔الغرض آبادی کے تسلسل کے علاوہ دیگر اس قدر امور قادیان کے اس مطابعے کے حق میں ہیں کہ اسے مغربی پنجاب میں شامل کیا جائے کہ کسی صورت میں بھی اس کے خلافت کوئی اور مطالبہ قابل غور قرار نہیں دیا جا سکتا۔اس جگہ ہم ایک اور امر کی بھی تردید کر دینا ضروری خیال کرتے ہیں جن کی بناء پر کہا جاتا ہے کہ گورداسپو کو مغربی پنجاب میں شامل کرنا ممکن نہیں۔بعض سرکاری حلقوں میں یہ کہا سجا رہا ہے کہ اقتصادی زندگی اور ذرائع رسل و رسائل کے پیش نظر اس ضلع کا الحاق مشرقی پنجاب سے ہونا چاہئیے مگر یہ خیال درست نہیں کیونکہ آبادی کی اکثریت کے بنیادی اصول کو نظرانداز کرنا بونڈری کمیشن کے اختیارات اور مفوضہ فرائض سے باہر ہے۔یہ