تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 420 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 420

مهر انجام دی ہیں وہ کسی طرح بھی سکھوں کی خدمت سے کم نہیں۔قادیان نے نہیں کی آبادی ۱۴۰۰۰ ہے دوسری عالمگیر جنگ کے موقع پر فوج کے لئے ۱۴۰۰ رنگروٹ نہیں کئے۔جماعت احمدیہ اگرچہ ایک چھوٹی سی جماعت ہے لیکن ۲۰۰ سے زائد احمدیوں نے شاہی کمیشن حاصل کیا ( ملاحظہ ہو ضمیمہ نمبر ۳ ) اس لحاظ سے اگر تعداد کی نسبت کو ملحوظ خاطر رکھا جائے تو احمدیہ جماعت ہندوستان کی تمام جماعتوں سے اول نمبر یہ آتی ہے۔بنیسیوں احمد کی والدین نے اپنے تمام بالغ باٹوں کو اپنے واتسب الاحترام امام کے فرمان پر لبیک کہتے ہوئے جنگی خدمات کے لئے پیش کر دیا۔ذیل کے دو اقتباسات النا خدمات پر سبو احمد کا احباب نے جنگ کے موقع پر سر انجام دی ہیں بطور بلیغ شہادت کے پیش کئے جا سکتے ہیں۔میں آپ کے نوٹس میں وہ عظیم الشان کام لانا چاہتا ہوں جو ہر ہائی نس مہاراجہ صاحب پٹیالہ اور ان کے افسران ، نیز کنیر حس جیت سنگھ اور سید زین العابدین ولی اللہ شاہ ناظر اور عامہ و خارجہ جماعت احمدیہ قادیان اور سردار کرتار سنگھ دیوانہ نے ٹیکنیکل بھرتی کے سلسلے میں کیا ہے۔میں چاہتا تھا کہ پُر زور سفارش کرتا کہ ان کی خدمت میں سنہری گھڑیاں بطور انعام پیش کی جائیں۔لیکن یہ چونکہ بزرگ ہستیاں ہیں میں صرف اسی پر اکتفاء کرتا ہوں کہ ڈائریکٹر آف ریکروٹنگ ان کی قابل قدر خدمات اور امداد کے اقرار کا اعلان فرما دیں۔اقتباس از خط بصیغه را از مورخه ۲۶ از اسے کی۔آر او جالندھر بنام ڈی ٹی۔آر۔او سب امیر یا نمبر ۲ لاہور ) تیز کیپٹن سجان سنگھ صاحب اسسٹنٹ ٹیکنیکل ریکوڈنگ آفیسر بجالندھر چھاؤنی سیکرٹری امور عام و مخارجہ جماعت احمدیہ قادیان کو نکھتے ہیں :۔میں شکریے کے ساتھ آپ کی ان بے بہا خدمات کا اعتراف کرتا ہوں جو آپ نے مکینیکل آدمیوں کی بھرتی کے سلسلے میں سرانجام دی ہیں۔آپ نے جنگی کوششوں میں گہری دلچسپی لی ہے اور ایک بڑی تعداد کا ریگروں ، کارکوں ! در جنگی کاموں کی تربیت لینے والے نوجوا لوں کی مہیا کی ہے اور آپ نے پبلک میں اپنے ذاتی اثر و رسوخ سے بھی کام لیا ہے اور محکمہ بھرتی کے سٹاعت سے فراخدلی کے ساتھ تعاون کیا ہے۔مجھے اس امداد کا بھی اعتراف