تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 413 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 413

تو بٹالہ میں ۵۵۲۰۷ بر مسلمان ہیں ، گورداسپور میں ۱۵ ۱۵۲اور شکر گڑھ میں ۵۱۰۳۲ د رپورٹ مردم شماری ہ۔ان اعداد و شمار کی رو سے یہ واضح ہے کہ اگر ہم تحصیل بٹالہ کے عیسائیوں کو ہندوؤں اور سکھوں میں شامل کر بھی دیں تو پھر بھی تحصیل بٹالہ میں مسلمان ۰۰۱۴ شیر کی اکثریت میں ہیں۔تحصیل گورداسپور میں ۴۶۳۰ بز اور تحصیل شکر گڑھ میں ۱۲۸ ۶ بر کی۔اگر عیسائیوں کو مسلمانوں کے ساتھ ملا دیا بھائے تو تب بٹالے کی تحصیل میں سے جو لوگ پاکستان میں شارق ہوتا چاہتے ہیں ان کی تعداد ۲۰۱۵۳ ج ہو جاتی ہے، اور جو ہندوستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں ان کی تعداد گھٹ کر ۳۹۴۷ رہ بھاتی ہے۔گورداسپور کی تحصیل میں مسلم اور عیسائی آبادی بیل کر ۱۲۴ ۵۹ بر اور باقی لوگ ۰۶۷۶ هم نیز میں مل کر ۵۹۱ نبر کی اقلیت نہیں ہو جاتے ہیں۔شکر گڑھ کی تحصیل میں مسلم اور عیسائی آبادی ۵۴۱۸۴ بر ہو جاتی ہے، اور غیر مسلم ۱۶ ۲۵۱ نبر ہو جاتے ہیں۔ان استعداد و شمار کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر ہم فی الحال پٹھانکوٹ کو زیر غور نہ لائیں تو یہ ظاہر ہے کہ گورداسپور کے باقی کسی حصے کے مشرقی پنجاب کے ساتھ الحاق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔تینوں تحصیلوں میں مسلم عیسائی آبادی ۱۵۸ بیر ہے۔اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وائسرائے کے اعلان کو مد نظر رکھتے ہوئے گورداسپور بٹالہ اور شکر گڑھ کی تحصیلوں میں سے کوئی بھی مغربی پنجاب سے جدا کر کے مشرقی پنجاب میں شامل نہیں کی جا سکتی۔ایسا اقدام سراسر بے انصافی پریدنی ہوگا اور غیر آئینی بھی۔تحصیل پٹھانکوٹ کے متعلق ہماری رائے ہے کہ یہ بیا د بود مسلم اقلیت کا علاقہ ہونے کے مغربی پنجاب میں شامل ہونی چاہیئے۔پٹھانکوٹ کی پوزیشن نرالی ہے۔" دیگر امور" والا اصول یہاں بالکل اطلاق پاتا ہے۔دریائے راوی اس تحصیل سے ہوتا ہوا مغربی پنجاب میں داخل ہوتا ہے اور اس دریا میں سے نہیں نکالی گئی ہیں جن کے ہیڈ ورکس مادھو پور میں ہیں۔یہ نہریں زیادہ تر مغربی پنجاب کو سیراب کرتی ہیں۔اگر ہے تحصیل حبس میں غیر مسلم ۳۵۰۰۰ کی اکثریت میں نہیں مغربی پنجاب سے بعدا کر دی جائے تو اس کا اثر مغربی پنجاب کی تیس لاکھ آبادی پر جس میں ہندو اور سیکھ بھی شامل ہیں بہت تباہ کن ہو گا۔اس مسلئے یہ بالکل مناسب ہوگا کہ تیس لاکھ کے مفاد کو ۲۵۰۰۰ کے مفاد پہ قربان نہ کیا جائے۔اس لئے پٹھانکوٹ کا معاملہ بالکل استثنائی بصورت کا ہے اور اس کی پنجاب کے دوسرے حصوں میں نظیر نہیں ملی۔اس لئے یہ تحصیل خاص غور کی مستحق ہے اور دیگر امور کے تحت میں شمار کیا جانے والا مناسب کہیں ہے۔