تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 412 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 412

۴۰۰ وانسر کے اسبارہ میں صحیح حالات سے آگاہ نہیں۔شاہ کی مردم شماری کی رپورٹ میں ضلع گورداسپور میں مسلمانوں کی آبادی کل آبادی کا ۱۴ ۵۱۶ فی صد ہے اور اس طرح سے مسلمانوں کو دوسروں پر ۲٬۲۸ نبر کی اکثریت حاصل ہے نہ کہ ۶۸، فی صد ا اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ ہندوستانی عیسائی اور اچھوت ہندوؤں اور سکھوں کے ساتھ سیاسی اتحاد میں شامل ہیں تو بھی مسلمان غیر مسلموں سے ۲۱۲۸ میر اکثریت میں ہیں لیکن ہمیں یہ بات یاد رکھنا چاہئیے کہ عیسائی لیڈر مسٹر ایس پی سنگھا نے جو بٹالہ ضلع گورداسپور کے رہنے والے ہیں۔غیر مبہم طور پر یہ اعلان کر دیا ہے کہ ان کا فرقہ پاکستان میں رہنے کو ترجیح دے گا۔سنٹرل کو سچین ایسوسی ایشن نے سنگھا صاحب کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے ، گورداسپور کے ضلع میں عیسائیوں کی آبادی ۴۴ پر ہے۔اگر ہم عیسائی آبادی کو مسلمان آبادی میں شامل کر دیں تو اس صورت میں ضلع گورداسپو کے وہ لوگ جو پاکستان میں شمولیت چاہتے ہیں ان کی تعداد ۵۵۰۶۰ فی صد ہو جاتی ہے۔یہ فرق در حقیقت نمایاں فرق ہے۔برٹش گورنمنٹ کی تجویز میں جالندھر کا ضلع مشرقی پنجاب میں شامل کیا گیا ہے۔بجالندھر میں غیر مسلم صرف ۵۴۱۷۴ ز ہیں۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ گورداسپور کا ضلع جس میں آبادی کا ۵۵۱۶۰ بز پاکستان کی حمایت میں ہے ایک متنازعہ فیہ علاقہ قرار دیا جائے۔یہ کہا جاتا ہے کہ عیسائیوں کو مہندوؤں اور سکھوں کے ساتھ شامل کرنے کے فیصلہ پر عیسائیوں کی رائے اثر انداز نہیں ہو سکتی تو پھر میں کہنا پڑے گا کہ حقائق کو بدلا نہیں جاسکتا۔اگر عیسائی کہتے ہیں کہ تم پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ عیسائی پاکستان جانا نہیں چاہتے۔بیشک گورنمنٹ یہ تو کہہ سکتی ہے کہ ہمیں اس بات کی پروا نہیں کہ عیسائی کہاں جانا چاہتے ہیں اور یہ کہ دو نو ملکوں کے در میان حد بندی کے لئے میں ائیوں کی رائے کو وقعت نہیں دی جائے گی لیکن یہ بات معقول نظر نہیں آتی کہ گورنمنٹ عیسائیوں کے پاکستان کی طرف رجحان کو خلاف پاکستان قرار دے۔اگر ہم عیسائیوں کو شامل نہ بھی کریں پھر بھی مسلمان ۲۱۲۸ بر کی اکثریت میں ہیں۔مسلمانوں کی اس نمایاں اکثریت کو یقیناً وہ اہمیت دینی چاہیئے جس کی وہ مستحق ہے۔نہیں یہ بھی یادرکھنا چاہیئے کہ اگر مسلمانوں کی اکثریت ضلع گورداسپور میں کم ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ پٹھانکوٹ کی تحصیل میں مسلمان ۳۸۶۸۸ بز ہیں۔لیکن جب ہم باقی تین تحصیلوں کو دیکھتے ہیں