تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 411 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 411

٣٩٩ معمولی تفصیلات کو طے کرنا ہے اور اس میں ایسی چھوٹی چھوٹی ترمیمیں کرنا ہے جو ضروری اور انصاف پر مبنی ہوں۔(۲) ان ترمیموں کے بارے میں کمشن کو یہ ہدایت ہے کہ وہ ان دیگر امور کو مد نظر رکھے جو آبادی کی بناء پر حد بندی کے لئے ضروری ہوں۔(۳) دیگر امور کے الفاظ کا تعلق مغربی اور مشرقی پنجاب کی درمیانی حدود سے ہے نہ کہ صوبہ کے باقیماندہ حصوں سے (۴) وائسرائے نے پولیس کا نفرنس میں جو اعلان کیا ہے وہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ کمشن کا صرف یہ کام ہے کہ وہ یہ دیکھے کہ اگر کوئی سرحدی ضلع آبادی کے لحاظ سے مجموعی طور پر کسی ایک فرقے کا ہے تو اس صورت میں اس ضلع کے وہ حصے جن کا رقبہ کافی ہو اور جن میں دوسرے فرقے کے لوگوں کی اکثریت ہو اس ضلع سے جدا کئے جائیں اور ان کا الحاق ان کے اپنے فرقے کے ساتھ والے علاقے سے کیا جائے۔اس اعلان سے یہ ہرگز معلوم نہیں ہوتا کہ ایک فرقہ کی اکثریت والا حصہ دوسرے فرقے کی اکثریت والے حصہ سے ملا دیا بھائے۔(۱۵) غیر مسلموں کا یہ دعوی کہ دیگر امور " سے مراد دولت جائداد وغیرہ ہیں، وائسرائے کے اعلان کے علاوہ انسانی عقل اور ضمیر کے بھی خلاف ہے۔ان عام خیالات کے اظہار کے بعد اب ہم اس سوال کو لیتے ہیں جس میں کہ سلسلہ احمدیہ کو خاص دلچسپی ہے یعنی وہ سوال جس کا تعلق ان مخصوص حالات سے ہے جو قادیان اور اس کے گرد و نواح سے متعلق ہیں اور جین کو مشرقی اور مغربی پنجاب کے درمیان حد فاصل قائم کرتے وقت ضرور مد نظر رکھنا چاہیے۔اس بارے میں ہم مندرجہ ذیل معروضات پیش کرتے ہیں :- ا قادیان تھانہ بٹالہ تحصیل بٹالہ اور ضلع گورداسپور میں واقع ہے۔ہماری گزارش ہے کہ یہ دعوئے کہ گورداسپور کا ضلع مغربی پنجاب میں شامل ہونا چاہیئے۔اس قدر واضح اور مضبوط بنیادوں پر قائم ہے کہ اس کے متعلق بحث بونڈری کمشن کے دائرہ عمل سے باہر ہے۔بیشک پر میس کا نفرنس کے موقع پر وائسرائے نے یہ کہا تھا کہ اس ضلع میں مسلمانوں کو ۶۸ خیرا کثریت حاصل ہے اور اس لئے یقینی طور پر اس کے بعض حصوں میں غیر مسلموں کی اکثریت ہوگی مگر ہم یہ عرض کرتے ھیں کہ