تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 391 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 391

بهترین رستہ یہی ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ ایک باعزت سمجھوتہ کر لیں اور مسلمانوں کا فرض ہے کہ اُن کے جائز اور معقول مطالبات کو فراخدلی کے ساتھ قبول کریں۔بالآخر سیکھ صاحبان کو یہ بات بھی ضرور یاد رکھنی چاہیئے کہ خواہ کچھ ہوسکھوں کے لاتعداد مفاد وسطی اور شمالی اور مغربی پنجاب کے ساتھ وابستہ ہیں۔ان کے بہت سے مذہبی مقامات اُن علاقوں میں واقعہ ہیں۔ان کی بہترین جائدادیں ان علاقوں میں پائی جاتی ہیں۔ان کے بہت سے قومی لیڈر انہیں علاقوں میں پیدا ہوئے اور انہیں میں جوان ہوئے اور انہیں میں کیس رہے ہیں اور پھر ان کی قوم کا بہترین اور غالباً مضبوط تھی، حصہ جسے سکھ قوم کی گویا جان کہنا چاہیے نہیں علاقوں میں آباد ہے۔تو کیا وہ ہندو قوم کے عارضی ایسی سمجھوتہ کی وجہ سے جس کا حشر خدا کو معلوم ہے اپنے ان وسیع مفاد کو چھوڑ کر مشرقی پنجاب میں سمٹ بھائیں گے ؟ خالصہ! ہوشیار باش خالصہ! ہوشیار باش ان لاجواب مضامین سے رجو اُس دور کی تحریک پاکستان کا انتہائی قیمتی پنجاب کی قسمت کا فیصلہ ا اور موجب صد افتخار علی سرمایہ ہیں یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ جماعت احمدیہ نے آخری مرحلہ تک تقسیم پنجاب کو رکوانے کی سرفروشانہ کوششیں برابر جاری رکھیں لیکن چونکہ فرقه دارانہ کشیدگی انتہاء کو پہنچ چکی تھی اور کانگرس نے سکھوں کے دل و دماغ میں پاکستان کے خلاف نفرت و حقارت کی بے پناہ آگ بھر دی تھی اس لئے ۲۳ جون سر کوغیر مسلم مبران اسمبلی کی اکثریت نے پنجاب کی تقسیم کے حق میں ووٹ ڈالے اور پانچ دریاؤں کی سرزمین اپنی وصدرت کھو بیٹی اور پھر مسلمانوں کی آزمائش کا ایسا خونین باب کھل گیا جس کے سامنے مسلم پی کی تباہی کے المناک ترین مناظر بھی ان نظر آنے لگے۔له الفضل" و هجرت ارمنی سایش صفحه ۳ تا ۰۵