تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 384
طرف بہائے گی اور ملک کی یہ تقسیم خواہ وہ کیسی اصول پر ہو اس کی طاقت کو کم کرنے والی ہوگی نہ کہ بڑھنے والی۔یہ کہنا کہ فلاں سمہ کے الگ ہو جانے سے اس حصہ میں سکھوں کی آبادی کا تناسب بڑھ جائیگا ایک خطرناک سیاسی دھوکا ہے کیونکہ بہر صورت پنجاب کے دونوں حصوں میں سکھ ایک کمزور اقلیت رہتے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس صورت میں ایک حصہ کے اندر تناسب آبادی میں تخفیف سی زیادتی کی وجہ سے اپنی مجموعی طاقت کو بانٹ لینا خود کشی سے کم نہیں۔برطانوی پنجاب میں سکھوں کی موجودہ آبادی ساڑھے تینتیس لاکھ ہے اور اُن کی آبادی کا تناسب تیرہ فی مہدی ہے۔اب موجودہ تجویز کے۔مطابق پنجاب اس طرح بانٹا جا رہا ہے کہ ایک حصہ میں پونے سترہ لاکھ سکھ چلا جاتا ہے اور دوسرے میں پونے اکیس لاکھ۔اور جس حصہ میں پوآنے اکیس لاکھ جاتا ہے وہاں اُن کی آبادی قریباً اٹھارہ فی صدی ہو جاتی ہے اور دوسرے حصہ میں قریباً دس فی صدی رہ بھاتی ہے تو کیا اس صورت میں دنیا کا کوئی سیاستدان یہ خیال کر سکتا ہے کہ ایسی تقسیم سکھوں کے لئے مفید ہوگی جہاں وہ تیرہ فی صدی سے قریباً اٹھارہ فی صدی ہو جائیں گے وہاں بھی بہر حال وہ ایک کمزور اقلیت رہیں گے اور ان کے لئے تناسب آبادی کا خفیف شرق عمل بالکل بے نتیجہ اور بے مورد ہوگا۔مگر دوسری طرف تیر نسیم ان کی مجموعی طاقت کو دو حصوں میں بانٹ کر دیعنی ہم کی بجائے ۱۶ اور ۲۱ کے دو حصے کر کے ان کی قومی طاقت کو سخت کمزور کر دے گی۔یہ ایک ٹھوس اور بین حقیقت ہے جسے دنیا کا کوئی مسلمہ سیاسی اصول تو نہیں کر سکتا۔اگر پنجاب ایک رہے تو سکھ قوم ساڑھے سینتیس لاکھ کی ایک زبر دست متحد جماعت ہے جس کا سارا زور ایک ہی نقطہ پر جمع رہتا ہے لیکن اگر پنجاب بٹ جائے تو خواہ وہ کسی اصول پر بٹے سکھوں کی ملاقات بہر حال دو حصوں میں بٹ جائے گی اور دوسری طرف ان کے آبادی کے تناسب میں بھی کوئی مہندیہ فرق نہیں آئے گا اور وہ بہر صورت دونوں حصوں میں ایک کمزور اقلیت ہی رہیں گے۔کیا یہ حقائق اس قابل نہیں کہ سمجھ دار سکھ لیڈر ان پر ٹھنڈے دل سے غور کریں ؟ یہ کہنا کہ پنجاب کے مختلف ضلعے یا زیادہ صحیح طور پر یوں کہنا چاہئیے کہ مختلف حصے آبادی کی نسبت سے نہیں بٹنے چاہئیں بلکہ مختلف قوموں کی جائداد اور مفاد کی بنیاد پر پہنے چاہئیں ایک فلن تستی سے زیادہ نہیں کیونکہ