تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 382 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 382

و مرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنے محققانہ مضمون میں تحریر فرمایا :- سیاسی حالات بھی عجیب طرح رنگ بدلتے رہتے ہیں۔ابھی ۱۹۴۷ء کے اوائل کی بات ہے جبکہ پنجاب اسمبلی کے انتخابات ہو رہے تھے کہ سکھ قوم اس بات پر سہندوؤں سے سخت بگڑی ہوئی تھی کہ وہ کانگریس کے نظام کے ماتحت ان کی پیتھک حیثیت اور پنتھک و قار کو تباہ کرنا چاہتے ہیں اور ان کی مستقل قومی حیثیت کو مٹاکر اپنے اندر بجذب کر لینے کے درپے ہیں چنانچ اسی زمانہ کے بعد کا واقعہ ہے کہ سکھوں کے مشہور لیڈر ماسٹر تارا سنگھ صاحب نے اپنے تنفت سپاہی" نامی گور یکھی رسالہ کے اگست ۶ہ کے نمبر میں ہندو مسلماناں نال ساڈے سمیدھ" کے مضمون کی ذیل میں لکھا تھا کہ ذہبی اصولوں کے لحاظ سے سیکھ مسلمانوں سے زیادہ قریب ہیں مگر تہذیب اور برادری کے تعلقات ہندوؤں سے زیادہ ہیں۔۔۔۔ہندوؤں میں ایک حصہ ایسا ہے جو ہمیں جنگل جانا چاہتا ہے۔مسلمانوں سے ہمارے تعلقات بھی کم ہیں اور خطرہ بھی کم ہے۔بقیه حاشیه صفحه گذشته تائید پاکسان سے متعلق بقر جد وجہد پرنٹ کرتے ہوئے زیر عنوان پاکستان کے احمدیوں پریشان تائید سے ابدیدہ ایوان لکھا کہ احمدیوں کی پاکستان میں اس غیر محفوظ و خطرناک پوزیشن اور مصائب کا کون ذمہ دار ہے۔اس کا جواب سوئے اس کے اور کیا ہو سکتا ہے سے اسے باد صبا ایں ہمہ آوردہ تست اس کے ذمہ دار خود احمدی لیڈر ہیں جنہوں نے پاکستان کے قیام کی سرگرم حمایت کی اور اپنے ساتھ ڈوبنے کی سکھوں کو بھی ترغیب دینے کی جسارت کی۔اس سلسلہ میں جون سنہ میں سول ملٹری گزٹ لاہور میں قادیان کے صاحبزادہ میرزا بشیر احمد صاحب ایم اے نے ایک مضمون تقسیم شدہ پنجاب میں سکھوں کی پوزیشن کے عنوان سے چھپوایا۔اس مضمون کا ترجمہ احمدیوں کے سرکاری اخبار الفضل میں اور بعد میں ایک پمفلٹ مخالصہ ہوشیار باش میں بھی چھپوا کر تقسیم کیا گیا جس میں سکھوں کو یہ دوستانہ مشورہ دیا گیا کہ وہ پنجاب کی تقسیم کو روکیں کیونکہ اس طرح سکھ پنتھ بھی تقسیم ہو جائے گا اور وہ کہیں کے نہ رہیں گے نیز سکھوں اور مسلمانوں کے عقائد میں یکسانیت ہے۔اس لئے انہیں مسلمانوں کے ساتھ مل کر رہنا چاہیئے۔اگر سکھ اس وقت اس مشورہ کو قبول کرکے کوئی معلو قدم اُٹھا لیتے تو اب احمدی حضرات ہی ہیں کہ اس کا انجام کتنا خطرناک ہوتا اگر پاکستانی مسلمان احمد یوں پاکستان کیلئے قربانیوں ان کی مسلمانوں کی سی شکل و صورت، ان کے مسلمانوں کے سے نام، ان کا مسلمانوں کی کتاب اور ستمبر پر ایمان اور شریعیت اسلامیہ پران کے عمل کے باوجود بھی نہیں مرند کا تربیتی درتقال مکار فریبی ہی سمجھتے ہیں اور ان کے ساتھ اقتصادی سیاسی معاشرتی شادی و غمی کے تعلقات رکھنے کو تیار نہیں تو وہ سکھوں سے کیونکر انصاف کر سکتے " " شیر پنجاب " ۲۵ فروری شاه بحواله الفضل ۲۱ رامان امار امش