تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 381
۳۷۰ حضرت مصلح موعود کے علاوہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی خاصہ ہوشیار باش ما موقع پر پے در سے نانی کے من میں ان دلائل کی روشی میں آپ نے تقسیم پنجاب کے مطالبہ کے عوامل ونتائج کا مفکرانہ طریق سے تجزیہ فرمایا اور سکھ بھائیوں کو نہایت مخلصان مشورے دیئے حضرت صاحبزادہ صاحب کے قلم سے نکلے ہوئے یہ سب حقیقت افروز مضامین بسلہ کے لڑ پھر میں محفوظ ہیں اور پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ یادگار رہیں گے۔یوں تو یہ سب معرکتہ الآراء مضامین اپنے اپنے رنگ میں نہایت درجہ معلومات افزا اور ماتل اور منفرد علمی شان کے حامل تھے مگر میں مضمون نے سکھوں میں ایک زبر دست جنبش پیدا کر دی وہ مسلم لیگ کے ترجمان پاکستان ٹائمز“ میں چھپا۔اس مضمون کا عنوان تھا " POSITION OF SIKNS IN DIVIDED PUNJAB منقسم پنجاب میں سکھوں کی حیثیت" نواب مظفر خان آن راہ نے ہر مٹی شاہ کو اس مضمون کی نسبت بذریعہ خط مندرجہ ذیل تاثرات کا اظہار کیا :- آپ کا مضمون بڑی دلچسپی سے پڑھا۔یہ نہایت بہترین مضمون ہے جو سکھوں اور مسلمانوں دونوں کو اپیل کرتا ہے۔میں نے عزت مآب خان لیاقت علی خاں اور دوسرے مسلم لیگی قائدین کی توجہ اس طرف مبذول کرائی ہے۔مجھے خدشہ صرف یہ ہے کہ مسلمان اخبار کے اس مضمون کو بہت کم سکھ مطالعہ کریں گے۔حیرت ہے کہ با وجود فیاضانہ سلوک کے سکھ بہت کم توجہ دے رہے ہیں“ اس انگریزی مضمون کا ترجمہ اخبار الفضل قادیان ( و ہجرت امنی لا مش اور اختبار خادم پٹیالہ (۱۲) خون کے انٹہ) میں بھی " خالصہ ہوشیار باش “ کے عنوان سے شائع ہوا۔اور بذریعہ پمفلٹ اردو 11954 انگریزی اور گور مکھی زبانوں میں بھی پنجاب کے طول و عرض میں وسیع طور پر پھیلایا گیا ہے سکے ط ملاحظہ ہو الفضل ۱۰ - ۱۹-۲۲ مهرت رسمی و ۱۴-۲۰ احسان اخون امش : -6۔ے اس مضمون پر اخبار " شیر پنجاب ۱۵ر خون کا ہر صفحہ ) نے اپنے اداریہ العنوان " مرزا بشیر احمد صاحب کے پیغام کا جواب سے میں سخت جرح اور تنقید کی جس کے جواب میں آپ نے ایک نہایت مدلل و مفصل مضمون "الفضل (۲۰ مون ٹ میں لکھا جو قابل مطالعہ ہے ؟ " ه الفضل ۲۰۰ احسان جون له مش صفحه ۱ : کے مشہور سکھ اخبار " شیر پنجاب " نے ۲۵ فروری شہ کو اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اور احمدیوں کی البقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر ملاحظہ ہو)