تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 380
۳۶۹ تا اللہ تعالے انہیں وہ راستہ دکھا دے جس میں اُن کی قوم کی بھی بھلائی ہو اور دوسری قوموں کی بھی بھلائی ہو یہ دن گذر جائیں گے۔یہ باتیں بھول جائیں گی۔لیکن محبت اور پریم کے کئے ہوئے کام کبھی نہیں بھولیں گے اگر ٹوارہ بھی ہوتا ہے تو وہ بھی اس طرح ہونا چاہیئے کہ ایک قوم کا گاؤں دوسری قوم کے گاؤں میں اس طرح نہ گھسا ہوا ہوں کہ جس طرح دود کنگھیوں کے دندانے ملا دیئے جاتے ہیں۔اگر ایسا ہوا تو سرحد میں چھاؤنیاں بن جائیں گی اور سینکڑوں میل کے بسنے والے لوگ قیدیوں کی طرح ہو جائیں گے اور علاقے اُجڑ جائیں گے۔یہ میری نصیحت سکھوں ہی کو نہیں مسلمانوں کو بھی ہے۔میرے نزدیک تحصیلوں کو تقسیم کا یونٹ تسلیم کر لینے سے اس فتنہ کا ازالہ ہو سکتا ہے۔اگر اس کھوٹا یونٹ بنایا گیا۔تو جتنا جتنا چھوٹا وہ ہوتا جائے گا اتنا اتنا نقصان زیادہ ہو گا۔ایک عرب شاعر اپنی معشوقہ کو محلی کر کے کہتا ہے۔عمر فإن كُنتِ قَدْ أَزْ مَعَتِ صَرْفًا فَاجْلِ یعنی اسے میری محبوبہ ! اگر تو نے جُدا ہونیکا فیصلہ ہی کر لیا تو کسی پسندیدہ طریق سے بعدا ہو۔یمیں بھی ہندو مسلمان سکھ سے کہتا ہوں کہ اگر بھدا ہونا ہی ہے تو اس طرح سب لا ہو کہ سرحدوں کے لاکھوں غریب باشندے ایک لمبی مصیبت میں مبتلا نہ ہو جائیں۔شاید کسی کے دل میں یہ خیال گزرے کہ میں نے ہندوؤں کو کیوں مخاطب نہیں کیا۔اس کا جواب یہ ہے کہ جہانتک ہ روی کا سوال ہے ہندو بھی ہمارے بھائی ہیں اور میں ان کا کم ہمدرد نہیں۔مگر ہند و چونکہ اپنے مرکز کی طر گئے ہیں۔اُن کا فوری نقصان تو ہوگا مگر بوجہ اس کے کہ وہ اکثر تا حجر پیشہ ہیں وہ جلد اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں گے اس لئے انہیں یہ کہنا کہ اس تقسیم سے آپ کا دائی نقصان ہوگا جھوٹ بن جاتا ہے۔اس لئے میں نے انہیں مخاطب نہیں کیا ورنہ اُن سے مجھے کم ہمدردی نہیں۔آخر میں لیکن دعا کرتا ہوں کہ اے میرے رب ! میرے اہل ملک کو سمجھ دے اور اول تو یہ ملک بیٹے نہیں۔اور اگر بیٹے تو اس طرح ہے کہ پھر مل جانے کے راستے کھلے رہیں۔اللہم آمین۔خاکسار مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ قادیان ) ارجون ۱۹۴۷) لے پر ضمون الفضل و ار احسان جون این صفحہ اتا ہم میں بھی چھپ گیا تھا : " نه