تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 379 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 379

PyA کے ہاتھ میں پھلا سجائے گا اور وہ انبالہ کے صوبہ میں بغیر کسی سے سمجھوتہ کرنے کے حکومت کر سکیں گے اور جالندھر میں کچھ سکھوں یا مسلمانوں کو ملاکر حکومت کر سکیں گے۔ایک اور سخت نقصان سکھوں کو اس صورت میں یہ پہنچے گا کہ جالندھر ڈویژن کے سیکھوں میں کمیونزم بہت زیادہ زور پکڑ رہی ہے۔فیروز پور ، لدھیانہ اور ہوشیار پور اس کے گڑھ ہیں۔اس علیحدگی کی وجہ سے ان لوگوں کی آواز بہت طاقت پکڑ جائے گی۔اور اکالی پارٹی چند سالوں میں ہی اس خطر ناک بلا کا مقابلہ کرنے سے اپنے آپ کو بے میں پائے گی مخصو صا حب کہ سیاسی چالوں کی وجہ سے بعض خود غرض پارٹیاں کمیونسٹوں کی مد کرنے پر آمادہ ہو جائیں گی جیسا کہ گذشتہ لیکشن پر سکھ صاحبان کو تلخ تجربہ ہو چکا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ میں نے کافی روشنی ان خطرات پر ڈالی دی ہے جو سکھوں کو پیش آنے والے ہیں۔اور میں امید کرتا ہوں کہ ۲۳ جون کو ہونے والی سمبلی کی میٹنگ میں وہ ان امور کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کریں گے۔اس طرح میں سمجھتا ہوں کہ چونکہ سب سے زیادہ اثر عوام سکھوں پر پڑنے والا ہے۔وہ بھی اپنے لیڈروں پر زور دینگے کہ اس خود کشی کی پالیسی سے اُن کو بچایا جائے۔میں لکھ چکا ہوں کہ میں بوجہ ایک چھوٹی سی جماعت کا امام ہونے کے کوئی سیاسی غرض اس مشورہ میں نہیں رکھتا۔اس لئے سیکھ صاحبان کو سمجھ لینا چاہیئے کہ میرا مشورہ بالکل مخلصانہ اور محض ان کی ہمدردی کی وجہ سے ہے۔اگر سیاست میرے اختیار میں ہوتی تو میں انہیں ایسے حقوق دے کر بھی جن سے اُن کی تسلی ہو جاتی ، انہیں اس نقصان سے بچاتا۔مگر سیاست کی طاقت میرے ہاتھ میں نہیں اس لئے میں صرف نیک مشورہ ہی دے سکتا ہوں۔ہاں مجھے امید ہے کہ اگر سکھ صاحبان مسٹر جناح سے بات کریں تو یقینا انہیں سکھوں کا خیر خواہ پائیں گے مگر انہیں بات کرتے وقت یہ ضرور مد نظر رکھ لینا چاہیے کہ ہند و صاحبان انہیں کیا کچھ دینے کو تیار ہیں۔کیونکہ خود کچھ نہ دینا اور دوسروں سے پینے کے مشورے دینا کوئی بڑی بات نہیں۔اس میں مشورہ دینے واے کا کچھ حرج نہیں ہوتا پس اچھی طرح اور پیچ پیچ کو دیکھ کر وہ اگر مسلم لیگ کے لیڈروں سے میں تو مجھے امید ہے کہ مسلم لیگ کے لیڈر نہیں نا امید نہیں کریں گے۔اگر مجھ سے بھی اس بارہ میں کوئی خدمت ہو سکے تو مجھے اس سے بے انتہا ر خوشی ہوگی۔ود آخر میں میں سیکھ صاحبان کو مشورہ دیتا ہوں کہ سب کا موں کی گنجی بخدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔گورو نانک دیو جی اور دوسرے گوروؤں کے طریق کو دیکھیں۔وہ ہر مشکل کے وقت اللہ تعالیٰ سے دعائیں کیا کرتے تھے۔اس وقت ان کو بھی اپنی عقل پر سارا انحصار رکھنے کی بجائے خدا تعالیٰ سے دعائیں کرنی چاہئیں