تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 373
۳۶۲ تسلیم کیا گیا تھا اس لئے حضرت مصلح موعود نے سکھ قوم کے نام دردمندانہ اپیل " کے عنوان سے ایک ٹیکیٹ لکھا ہو دس دس ہزار کی تعداد میں بزبان اردو و گورمکھی شائع کیا گیا ہے حضور نے اس ٹریکٹ میں سکھوں سے نہاتے درجه دردمند دل کے ساتھ اہیل فرمائی کہ وہ سنجیدگی اور متانت اور حقیقت پسندی سے اپنے موقف پر نظریاتی کریں اور پنجاب کو تقسیم کرانے کی بجائے قائد اعظم اور سلم لیگ سے سمجھوتہ کر لیں۔نیز قبل از وقت انتباہ بھی کر دیا کہ تقسیم پنجاب کے فیصلہ سے انہیں قومی اعتبار سے قطعا کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا اور اُن کا مستقبل مخدوش ہو جائے گا۔حضور کا یہ ٹریکٹ آپ کے سیاسی فہم و تد تیر اور بصیرت و فراست کا زندہ شاہکار ہے جس کی تاریخی اہمیت میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ذیل میں حضرت مصلح موعود کا یہ مضمون مجنسبہ درج کیا جاتا ہے:۔اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ هو الله سمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ خدا کے فضل اللہ رحم کے سائے سامي سکھ قوم کے نام دردمندانہ اپیل پنجاب کے بٹوارے کا برطانوی فیصلہ ہو چکا ہے۔اب خود اہل پنجاب نے اس کے متعلق اپنی آخری منظوری دیتی ہے یا اس سے انکار کرنا ہے۔بیشتر اس کے کہ اس کے متعلق کوئی قدم اُٹھا یا جائے مناسب ہے کہ ہم اس کے متعلق پوری طرح سوچ لیں۔ایک دفعہ نہیں دس دفعہ کیونکر تقسیم کا معاملہ معمولی نہیں بہت اہم ہے۔اس وقت تک جو تقسیم کا اعلان ہوا ہے اس کا حسب ذیل نتیجہ نکلا ہے :۔مندو ( انگریزی علاقہ کے ۲۱ کروڑ میں سے ساڑھے انہیں کروڑ ایک مرکز میں جمع ہو گئے ہیں اور صرف ڈیڑھ کروڑ مشرقی اور مغربی اسلامی علاقوں میں گئے ہیں۔گویا اپنی قوم سے جدا ہونے والے ہندوؤں کی تعداد صرف سات فی صدی ہے۔باقی ترانوے فیصدی ہندو ایک جھنڈے تلے جمع ہو گئے ہیں۔مسلمان (انگریزی علاقہ کے آٹھ کروڑ میں سے پانچ کروڑ دو اسلامی مرکزوں میں جمع ہو گئے ہیں اور تین کروڑ ہندو اکثریت کے علاقوں میں چلے گئے ہیں۔گویا اپنی قوم سے جدا ہونے والے مسلمان سینتین کی صدی ہیں۔سیکھ ( انگریزی علاقہ رپورٹ سالانہ صدر انجین احمدیہ پاکستان بابت سال مش صفحه ، *