تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 370
۳۵۹ کھتے اور بیرسٹر بھی، وکلا بھی تھے اور ڈاکٹر بھی ، مولوی بھی تھے اور مدرس بھی۔اور انہیں میں چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کے والد مرحوم بھی گئے اور خان بہادر شیخ محمد حسین صاحب سیشن بھی بھی گئے ان سب تعلیم یافتہ لوگوں نے جا کہ اس بڑھیا کا کھیت کاٹا۔اُن کے ہاتھوں پر چھالے پڑ گئے مگر اس بات کا اتنار عجب ہوا کہ اس سارے علاقہ میں احمدیوں کی دھاک بیٹھ گئی مگر وہاں کے راجہ نے اتنا ظلم کیا کہ یہ لوگ چار پانچ میل گرمی میں جاتے تھے تو رات کو واپس سٹیشن پر آکر سوتے تھے۔چودھری نصر الله تعال صاحب با وجودیکہ بڑھے آدمی ستھے ان کو بھی مجبوراً روزانہ گرمی میں چار میں جانا اور چار میل آنا پڑتا تھا۔آخر میں نے اپنا ایک آدمی گورنمنٹ ہند کے پولیٹیکل سکڑی کی طرف بھیجوایا کہ اتنا ظلم نہیں کرنا چاہیے۔اس ریاست میں جو پھار پانچ لاکھ مہندہ ہے وہ فساد نہیں کرتا اور ہمارے چند آدمیوں کے داخلہ سے فساد کا اندیشہ ہے۔اس وقت پولیٹیکل سکرٹری سر تھا محسن تھے۔انہوں نے جواب دیا میں اس میں کیا کر سکتا ہوں۔میں راجہ سے کہوں گا۔اگر وہ مان جائے تو بہتر ہے۔سر تھامسن نے ہمدردی کی مگر ساتھ معذوری کا اظہار بھی کیا لیکن ابھی اس پر پندرہ دن بھی نہ گذرنے پائے تھے کہ راجہ پاگل ہو گیا اور اس کو ریاست سے باہر نکال دیا گیا اور پاگل ہونے کی حالت میں ہی وہ مرا۔اسی طرح اس وقت کے الور والے راجہ کو بھی بعد میں سیکی بجرائم کی وجہ سے نکال دیا گیا۔پس ہمارا خدا بو علیم اور خبیر ہے وہ اب بھی موجود ہے۔اگر ہم انصاف سے کام لیں گے اور پھر بھی ہم پیٹ کم ہوگا تو وہ ضرور ظالموں کو گرفت کئے بغیر نہ چھوڑے گا ظلم تو ہمیشہ سے نبیوں کی جماعتوں پر ہوتا آیا ہے۔مگر یہ نہایت ذلیل احساسات ہیں جو اس اخبار نے پیش کئے ہیں حال کہ واقعہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے بھی ہم پر ہمیشہ ظلم کیا۔شروع شروع میں جب احمدی تالاب سے مٹی لینے جاتے تھے تو یہاں کے سیکھ وغیو ڈنڈے لے کر آجاتے تھے۔آخر ہمارے ساتھ کس نے کمی کی۔مگر ہر موقعہ پر تعدا ہماری مدد کرتا رہا۔مہارا دشمن اگر ہمارے ساتھ ظلم اور بے انصافی بھی کرے تو ہم انصاف سے کام لیں گے اور جب تک یہ روح ہمارے اندر پیدا نہ ہو جائے خدا ہمارا ساتھ نہیں دے گا۔پس ہم دیکھیں گے کہ حق کس کا ہے۔ہندو کا ہوگا تو اس کی مدد کریں گے سکھ کا ہو گا تو اس کی مدد کریں گے۔مسلمان کا ہوگا تو اس کی مدد کریں گے ہم کسی